طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 75
°°° علمی قوتِ استدلال بڑھانا چاہتے ہیں تو یہ عمل کریں °°°
استدلال کی قوت کا لحاظ ہے شخصیت کے منصب کا اعتبار نہیں
یہی وجہ ہے صاحبین باوجود شاگرد ہونے کے امام اعظم سے اختلاف کرتے ہیں
اور امام اعظم باوجود شاگرد ہونے کے امام اعمش پر مخفی وہ مسائل حل کر دیتے ہیں جو ان سے لی گئی روایات سے اخذ کرتے ہیں
اس پر امام اعمش پکار اٹھتے ہیں
يا معشر الفقهاء أنتم الأطباء ونحن الصيادلة
اے گروہِ فقہاء تم طبیب ہو اور ہم [ یعنی گروہِ محدثین ] پنساری ہیں
❗الفقیہ و المتفقہ للخطیب البغدادی ❗
یہی وجہ ہے فاروق اعظم رضی الله عنہ بذرگ بدری قدیم الاسلام صحابہ کی موجودگی میں کمسن صحابی عبد اللہ بن عباس کی رائے بھی سنتے ہیں
اسلام میں کبھی شخصیات کے منصب کی قوت کا لحاظ نہیں رہا بلکہ دلیل کی قوت کا اعتبار رہا ہے
یہی وجہ ہے مولا علی کا فرمان ہے
لا تعرف الحق بالرجال اعرف الحق تعرف أهله
تم حق کو آدمیوں سے نہ پہچانو بلکہ حق کی پہچان کرو حق والے بھی پہچان لو گے
❗احیاء العلوم ❗
آپ کا استاذ یا ادارے یا تنظیم کا سربراہ ہونا حق ہونے کی نشانی نہیں ہے
بعض اکابر علماء کرام نے فرمایا ہے
جو صرف اپنے استاذ کے درس میں شریک ہوتا ہے اور معاصر علماء کے پاس نہیں بیٹھتا وہ علم کی برکات سے محروم ہوتا ہے
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ استاذ کو کنواں بنا کے خود اس کا مینڈک بن جاتا ہے
اس کے باہر کا لامحدود سمندر اس سے اوجھل رہتا ہے
جبکہ
فوق کل ذی علم علیم
ہر علم والے کے اوپر علم والا ہے
یہ سلسلہ ذاتِ رب العالمین تک پہنچتا ہے
صرف ایک استاذ پر اکتفاء کرنے والے کا علم ناپختہ اور قوتِ استدلال تارِ عنکبوت کی مثل بودا ہوتا ہے
یہی نکتہ ہے امام اعظم کے امام اعظم ہونے میں ہے کہ فقہاء مجتہدین میں جتنے استاذ امام اعظم کے ہیں کسی کے نہیں ہیں
امام اعظم ابو حنیفہ کے تقریباً تیرہ سو استاذ ہیں
کثیر اساتذہ مطلب ایک ذہن کو ہر لحاظ سے تیار کرنا ہے
جو ایک عالم ایک استاذ ایک مصنف ایک فقیہ ایک شخصیت پر تکیہ کر کے بیٹھ جائے اس میں علم کی پختگی نہیں تشدد تعصب آتا جاتا ہے
اور یہ وقت کے ساتھ پختہ ہوتا جاتا ہے
پھر پہلی بات پر آتے ہیں کہ استدلال کی قوت کا لحاظ ہے تو اس کا لحاظ وہی کرتا ہے جو علم و فضل و عدل و اعتدال والا ہے متعصب و عنید استدلال نہیں شخصیت کا لحاظ کرتا ہے
میدانِ علم میدانِ جنگ کی طرح ہے
جس طرح ایک ہزار کا لشکر اگرچہ قوی ہو مگر دس ہزار کے لشکر کے سامنے ڈھیر ہوتا ہے کہ میدانِ جنگ میں قوت کثرت سے تعبیر کی جاتی ہے
چیونٹیوں کی جماعت ہاتھی و سانپ کو مار دیتی ہے
اسی طرح میدانِ علم میں کثیر دلائل پھر دلائل کی پختگی پر دلائل شخصی دلائل کو بہا لے جاتے ہیں
جیسے ضعیف حدیث کثرتِ طرق سے درجہَ حسن تک پہنچ جاتی ہے
ویسے عام بحث میں کثرتِ دلائل ہی قوی شمار ہوتے ہیں
اور اب اہم بات کہ قوتِ استدلال کیسے بڑھائیں
اس کا جواب اوپر گذر گیا کہ
کثیر اساتذہ کی تربیت قوی استدلال کا ملکہ پیدا کرتی ہے
اگر آپ ذہن طراز طبیعت اخاذ بنانے چاہتے ہیں تو ایک استاذ و ایک فقیہ و عالم پر اکتفاء کرنا چھوڑ دیں
صحیح العقیدہ ہر سنی عالم کو پڑھیں آپ کو محسوس ہوگا ایک پھول کی صحبت نے زنگ لگا دیا تھا یہاں تو پورا گلستان گُلوں سے بھرا ہوا مہک رہا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
