المزاح_و_الظرافت 18
خالد بن صفوان ایک جگہ سے گزرے جہاں لوگوں کا رش لگا تھا پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہاں ایک رشتے کروانے والی مائی ہے جس کے پاس لوگوں کا رش رہتا ہے
وہ اس عورت کے پاس گئے اور کہنے لگے
میرے لیئے ایک ایسی بیوی تلاش کرو جو ایسی کنواری جیسے شادی شدہ جیسی ہو {یعنی تجربہ کار ہو] یا ایسی شادی شدہ ہو جو کنواری جیسی ہو [یعنی حیاء و جھجک مین]
قریب سے میٹھی لگے دور سے صحت مند لگے
عیش و عشرت میں ہونے کے بعد اسے فقر و فاقہ پہنچے تو ادب والی خاموشی اختیار کرے
جب ہم تنہاء ہوں تو ایک دوسرے کے لیئے کل کائنات ہوں [یعنی خوب موج مستی کرنے والے ہوں]
جب جدا ہوں تو آخرت کی فکر کرنے والے ہوں [ یعنی تنہائی میں محبت کرنے والے اور الگ ہوں تو آخرت کی فکر کرنے والے ہوں]
رشتے کروانی والی مائی پہلے تو ہکا بکا ہو کے ان صفات کو سنتی رہی پھر کہنے لگی
ایسی عورت مجھے مل گئی
خالد بن صفوان نے کہا کہاں ہے؟
کہنے لگی
فی الرفیق الاعلی من الجنة فاعمل لها
اوپر جنت میں ہے اس کے لیئے کوشش کرو
❗العقد الفرید لابن عبد ربہ ❗
ھیثم بن عدی کہتے ہیں میں جانوروں کے بازار میں تھا
ایک بندہ آیا وہ جانور بیچنے والے کو کہنے لگا مجھے ایک گدھا چاہئیے
جو نہ چھوٹا ہو نہ بڑا ہو اگر راستہ خالی ہو تو وہ گدھا بھاگنے لگے راستے پر رش ہو تو آہستہ آہستہ چلے کسی دوسرے جانور سے ٹکرائے نہیں اور بے لگام ہو کر کسی جگہ گھس نہ جائے اگر میں اسے چارہ کم دوں تو صبر کرے زیادہ دوں تو شکر کرے میں اس پر سوار ہو جاؤں تو کھڑا رہے کوئی اور سوار ہو تو کود کر گرا دے
جانور بیچنے والا کہنے لگا
صبر کرو اگر الله قاضیَ وقت کو مسخ کر کے گدھا بنا دے تو میں آپ کی خواہش پوری کر دوں گا
❗انس المحاضرہ ❗
بعض لوگ کوئی شے لینے جاتے ہیں تو ایسی صفات کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا حصول اس دنیا میں مشکل ہوتا ہے
اس کے لیئے انہیں یا تو خالد بن صفوان کی طرح رفیقِ اعلی میں جانا پڑے گا یا قاضیَ وقت کے مسخ ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا
گدھا تو پھر بھی ایسا مل جاتا مگر بیوی ایسی نہیں ملتی کہ حدیث پاک میں ہے
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
المرأة الصالحة مثلها في النساء كمثل الغراب الأبيض في ألف غراب
نیک عورت عورتوں میں ایسے ہے جیسے ہزار کوؤں میں ایک سفید کوا ہو
❗ طبرانی, إعتلال القلوب للخرائطي , حیات الحیوان ❗
یعنی ایسی عورت جو شوہر کو راضی کرے ہر معاملے میں شوہر کی موافقت کرے ہزاروں میں ایک ہوتی ہے
خواتین کی بے جا خواہشات اور شوہر کی بے تحاشہ محنت کے باوجود ناشکری عام ہے
ہر عورت یہی یقین کیئے بیٹھی ہوتی ہے کہ بس میں مظلوم ہوں جبکہ خود کی صفات قابلِ قبول نہ بھی ہوں تو بھی مظلومہ ہے
لہذا ایسی عورت اور ویسا گدھا تلاش نہ کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
