بلا وجہ دل غمزدہ کیوں ہوجاتا ہے

تصوف_وصوفیاء 62

°°° اچانک دل پریشان ہو جائے تو کیا کریں °°°

سیدی ابو الحسن شاذلی فرماتے ہیں

أسباب القبض ثلاثة ذنب أحدثته أو دنيا ذهبت عنك أو شخص يؤذيك في نفسك أو عرضك فإن كنت أذنبت فاستغفر، وإن كنت ذهبت عنك الدنيا فارجع إلى ربك، وإن كنت ظلمت فاصبر، واحتمل هذا دواؤك، وإن لم يطلعك الله تعالى على سبب القبض فاسكن تحت جريان الأقدار
حالتِ قبض کے تین اسباب ہیں
{ حالتِ قبض صوفیاء کرام کے نذدیک دل اچانک مٹھی میں جکڑا جاتا ہے اور بندہ بے چین رہتا ہے}
(1) تو نے کوئی نیا گناہ کیا ہوتا ہے
(2) یا تیرا کوئی دنیاوی نقصان ہوا ہوتا ہے
(3) یا کسی نے تیری جان یا عزت کے معاملے میں تجھے اذیت دی ہوتی ہے
اگر تو نے گناہ کیا ہو گا توبہ کر
اگر تجھ سے دنیا چھوٹ گئی تو اپنے رب کی بارگاہ میں رجوع کر
اگر تجھ پر ظلم کیا گیا تو صبر کر
اور اسے اپنی دواء شمار کر اور اگر اللہ رب العزت تجھے حالتِ قبض کے کسی سبب پر اطلاع نہ دے تو تقدیر پر راضی رہ
❗لوافح الانوار فی طبقات الاخیار للشعرانی ❗
اس میں تیسری صورت قابلِ غور ہے کہ پیٹھ پیچھے کوئی آپ کی برائی کرے آپ کی عزت پر وار کرے تو روح محسوس کر جاتی ہے اور دل بے چین ہوجاتا ہے
اسی طرح سینکڑوں کلو میٹر دور خوشی بھی آپ کی روح محسوس کر لیتی ہے اور بندہ اچانک خوش ہوجاتا ہے
اسی طرح کسی کا آپ کو شدت سے یاد کرنا بھی آپ کے دل و روح پر اثر ڈالتا ہے

بقول شاعر
یہ جو ہچکیاں مسلسل مجھے آرہی ہیں عالم
کوئی لے رہا ہے شاید میرا نام چپکے چپکے

کسی کا آپ کو یاد کرنا بے چین کر دیتا ہے

اسی طرح کسی قلبی محبوب یا خاص طور پر خونی رشتے کو تکلیف پہنچنا بھی آپ کی روح کو مضطر کر دیتا ہے

حالتِ قبض کے بے شمار اسباب ہیں
جب یہ حالت دل پر چھائے تو غور کریں کیا وجہ ہے اگر وجہ مل جائے تو اس کے مطابق عمل کریں
اگر وجہ نہ ملے تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں رجوع کریں
وہی دِلوں کو سکون دیتا ہے
✍️ #سیدمہتابعالم

Scroll to Top