اسلامی_طرزِتربیت 47
اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کو شاعری کا شوق تھا
اسی لئیے عوام بھی شاعری کی شوقین ہو گئی
لوگ باہم پوچھتے سناؤ نیا کیا لکھا
کونسا قصیدہ لکھا وغیرہ
ولید بن عبد الملک کو عمارتیں بنانے اور محلات تعمیر کرنے کا شوق تھا
تو عوام بھی نت نئے گھر بناتی اور محلات کی تعمیر میں باھم فخر کرتے تھے
سلیمان بن عبد الملک کو نکاح اور لونڈیوں کا شوق تھا تو لوگ نکاح زیادہ کرتے اور لونڈیوں خریدتے تھے
جب سیدنا عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے تو آپ نماز روزے اور قیام اللیل کی کثرت کرتے تھے
تو صبح کو لوگ آپس میں پوچھتے تھے بتاؤ رات کتنے نوافل پڑھے کتنا قرآن یاد ہوگیا ھے کتنے روزے رکھے ہیں
ایک روایت میں ھے
ان الناس علی دین ملوکھم
لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں
یعنی جیسے بادشاہ ویسی عوام ہوتی ہے
اگر بادشاہ نیک ہو تو عوام بھی بہتر ہو جاتی ہے اگر بادشاہ ہی ظالم, غاصب اور دین سے دور ہو تو عوام بھی ظلم و غصب کرتی اور دیں سے دور رہتی ہے
یہی وجہ کہ عمر فاروق کے دور میں بھیڑ اور بھیڑیا ایک جگہ پانی پیتے تھے کہ بادشاہ کی نیکی کا اثر جانوروں پر بھی پڑتا ہے
ایک عورت نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ ھم کب تک اس دین پر ثابت قدم رہیں گے
فرمایا
ما استقامت بكم أئمتكم
جب تک تمہارے حکمران سیدھے رہیں گے
یعنی حکمرانوں کی صلاح و درستی پر عوام کی بہتری موقوف ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی بہترین حاکم دے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
