فقہِ_رضا 2
فقہی قاعدہ ہے
ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام
یعنی جس شے کا کثیر نشہ دے اس کا قلیل بھی حرام ھے
میں صرف مُسکراتِ مائعہ {بہنے والی اشیاء جو نشہ دیں}مراد ہیں جن کا نشہ لانا ان کے سیال کرنے سے ہوتا ہے
ورنہ مشک و عنبر و زعفران بھی مطلقاً حرام و نجس ہو جائیں کہ حد سے زیادہ ان کا کھانا بھی نشہ لاتا ہے
(فتاوی رضویہ جلد 25 صفحہ 208)
فقہِ رضا کی کیا ہی بے مثال جھلک ھے
امام اھل سنت نے
ان دو سطروں میں کثیر فوائد بیان فرما دیئے
1_عرف عام میں کثیر نشے والی کا قلیل بھی حرام ھے مائع و غیر مائع دونوں سمجھے جاتے ہیں اس وھم کو دور کیا
2_فنِ طب کے لحاظ سے عجب نکتہ بیان فرمایا کہ مشک و عنبر و زعفران کا زیادہ کھانا بھی نشہ لاتا ھے
3_ مطلقاً حرام و نجس کی قید سے اشارہ کیا کہ جو حرام ہوگا وہ نجس بھی ہوگا خواہ قلیل ہو یا کثیر جبکہ مائع ہو ورنہ غیر مائع قلیل ہو یا کثیر نشہ دے یا نہ دے نجس نہیں ہے حرام ضرور ھے جبکہ نشہ دے
5_غیر مائع نشے کی قلت کا جواز بیان فرمایا کہ جب تک نشہ نہ ہو اسکا استمال جائز ہے
فقہ میں یہ رنگ یہ گہری نظر آپ کو امام احمد رضا کے سوا کہیں نہ ملے گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم
