المزاح_و_الظرافت 35
فرزدق عرب کا مشہور شاعر گزرا ہے
اسے اپنے چچا کی بیٹی جس کا نام النوار تھا پسند تھی مگر وہ اس سے شادی نہیں کرتی تھی
النوار نے ایک نواجوان سے شادی کرنی تھی تو اس نے فرزدق کو اپنے نکاح کا وکیل بنا دیا کیونکہ وہ سب سے قریبی رشتہ دار تھا
فرزدق نے النوار کو کہا کہ جامع مسجد میں آ کر سب کے سامنے مجھے اپنا وکیل بنا دو
النوار جامع مسجد گئی اور کہا
اشهدوا أني قد وكلت ابن عمي الفرزدق في أمر زواجي
اے لوگو گواہ ہو جاؤ میں اپنے چچا کے بیٹے فرزدق کو اپنے نکاح کا وکیل بنا دیا ہے
یہ وکالت لینے کے بعد فرزدق بولا
وأشهدكم أني قد زوجتها لنفسي فهي بنت عمي وأنا أولى بها
اور میں تم سب حاضرین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے چچا کی بیٹی کا نکاح اپنے آپ سے کرتا ہوں کیونکہ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی ہوں
فرزدق نے اس نکاح کا حق مہر (سو سرخ اونٹ) رکھا
النوار نے انکار کر دیا پھر یہ فیصلہ عبد اللہ بن زبیر رضی الله عنہ نے فرزدق کے حق میں کیا
لہذا وکالت کسی کو بھی دیں سوچ سمجھ کر دیں ورنہ ایسا بھی ہو سکتا ہے
اور گواہ بھی کسی اچھے کام کے بنیں
بہت سے جذباتی لڑکے لڑکیاں آپسی نکاح کر لیتے ہیں کبھی گواہوں کے ساتھ کبھی گواہی کے بغیر جو کہ نکاح تو ہے مگر نکاحِ فاسد ہے
جسے توڑنا واجب ہے اور ازدواجی تعلق حرام ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
