المزاح_و_الظرافت 53
°°° ابو العسر اور ابو الیسر °°°
امام ابن منظور افریقی {المتوفىٰ 711 ہجری} صاحبِ لسان العرب کی مہارت تھی جو عادت بن گئی کہ لمبی سے لمبی بات کو مختصر کیا کرتے تھے
کسی بھی بڑی کتاب کو دیکھتے اسے مختصر کر دیتے تھے
امام ابن منظور کے بیٹے نے ایک لمبے قد کے شخص کو دیکھا تو اسے کہا
لو رآك أبِي لاختصرك
اگر میرے والد تمہیں دیکھتے تو مختصر کر دیتے
اسی طرح منطق و فلسفہ و سائنس و فقہ و تصوف کے امام ابن لِیُون التُجِیبی {المتوفیٰ 750 ہجری} کتب کو مختصر کر دیا کرتے تھے بڑی سے بڑی کتاب کا خلاصہ لکھ دیا کرتے تھے
مغرب کے ایک بڑے عالم نے کسی طویل القامت [لمبے قد] آدمی کو دیکھا تو مزاحاً فرمایا
لو رآه ابن ليون لاختصره
اگر اس لمبے آدمی کو ابن لیون دیکھتے تو مختصر کر دیتے
علماء و ادباء کے دِلوں میں اچھوتے خیال آتے ہیں تبھی تو مزاح بھی ایسے جملوں سے کرتے ہیں کہ سامنے والے کی دل آزاری نہ ہو
کچھ لوگ مشکل بات کو آسان کر کے بیان کرتے ہیں اور کچھ آسان کو مشکل بیان کرتے ہیں
علماءِ اسلام میں ایسے دو بھائی گذرے ہیں
جو آسان کو مشکل کرتے ان کی کنیت ابو العسر [مشکل والے] تھی
اور جو مشکل کو آسان کرتے ان کی کنیت ابو الیسر [آسانی والے] تھی
اسی طرح کچھ لوگ مختصر بات کو طویل کر دیتے ہیں
اور کچھ طویل کو مختصر کر دیتے ہیں
جیسے صاحبِ لسان العرب اور ابن لیون حتیٰ کہ انسان چھوٹا کرنے کی بات ان کی طرف منسوب ہوگئی
✍️ #سیدمہتاب_عالم
