طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 102
کس قاتل کو قتل معاف ہے ؟
تاریخِ اسلام کے عجیب فتاوی میں سے ایک فتوی شیخ الاسلام محمد بن محمد الخناجری شافعی (متوفی 940 ھجری)
کا بھی ہے
اگر کسی عورت کا شوہر مسخ ہو کر پتھر یا درخت ہو جائے تو اس عورت پر بیوہ کی عدت لازم ہوگی
اور اگر کسی عورت کا شوہر مسخ ہو کر کوئی جانور بن جائے تو زندہ کی عدت یعنی مطلقہ والی عدت لازم ہوگی
اگر بے وضوء کو برف کا ٹکڑا ملے مگر وہ پگھل نہ سکتا ہو تو وہ تیمم کرے گا اور برف سے سر کا مسح کرے گا
پھر تیمم کرے گا
حدیث پاک میں ہے قربِ قیامت میں لوگ مسخ ہوں گے تو علامہ خناجری نے صدیوں پہلے ہی اس بارے احکام بیان فرما دیئے ہیں
امام خناجری علم کے پہاڑ تھے اسی وجہ سے ان کے شیخ نے ان کی شان میں شعر کہا
سللن سيوفا من جفون لقتلتي
وأردفنها من هدبها بخناجر
فقلت أيفتى في دمي قلن لي أجل
أجاز السيوفي ذاك وابن الخناجر
ان خواتین نے مجھے قتل کرنے کے لیئے اپنی پلکوں سے تلواریں نکال لیں
اور اس کے بعد پلکوں سے خنجر نکال لیئے
میں نے کہا کیا کسی نے میرے قتل کو حلال کہا ہے تو ان خواتین نے کہا بالکل!
سیوفی اور ابن الخناجر نے جائز قرار دیا ہے
(الکوکب السائرہ)
یعنی محبت کے مقتول کا خون معاف ہے
کوئی ماہ جبیں مژگانِ غزال و طاؤسی چال و جالِ جمال سے حال بے حال کر کے قتل و قِتال کرے تو اس کی پکڑ نہیں ہوگی
علماء اسلام باوجود قرآن و حدیث و فقہ کے عالم و عامل ہونے کے طبیعتِ انسانی کے مطابق زندگی گزارتے تھے اور تکلف و تصنع سے پاک رہا کرتے تھے!
عشق و مزاح سے اجتناب نہیں کرتے تھے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

