اگر آپ پڑھا ہوا علم بھول جاتے ہیں تو

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 104

°°° علم میں پختگی کیسے آتی ہے °°°

اکثر طلباء و طالبات پریشان ہوتے ہیں کہ جو پڑھتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں
جبکہ حقیقت میں یہ پریشانی کی وجہ بالکل بھی نہیں ہے
آگے آنے والی تحقیق کو دھیان سے پڑھیں ان شاءاللہ راحت پائیں گے اور مایوسی سے نجات ملے گی
کبھی آپ نے غور کیا کہ
علمِ کی پختگی کیا ہے؟
رسوخ فی العلم کیا ہے؟
تفقہ کیا ہے؟
علم کی پختگی یہ نہیں کہ آپ نے جو کچھ پڑھا وہ آپ کو ہر وقت یاد رہے
علم کی پختگی, رسوخ فی العلم , تفقہ یہ ہے کہ علم آپ کے قلب و ذہن میں رچ بس جائے
جب علم اور علم کی روح آپ کے گوشت پوست قلب و ذہن میں اتر جاتی ہے تو عباراتِ کتب مِن و عَن آپ کے ذہن میں نہ بھی ہوں ان کا درست مفہوم ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے
یہی علوم کی پختگی ہے
یہی رسوخ فی العلم ہے
یہی تفقہ ہے
بلکہ کبھی تو عبارت نہ عبارت کا مفہوم کچھ بھی ذہن میں نہیں ہوتا مگر علم والا درست بتا دیتا ہے
بھلا کیسے؟
کیونکہ علم اس کی روح میں اتر چکا ہے رسوخ فی العلم ہوچکا ہے اور یہی شرحِ صدر ہے
اور جسے شرح صدر حاصل ہو وہ مزاجِ اسلام اور مقاصدِ شریعت بخوبی جانتا ہے
اور یہ (شرحِ صدر) اور وہ (مزاجِ اسلام کی معرفت) اس بندے کو معاصر علماء سے نہ صرف ممتاز بلکہ بلند کر دیتی ہے
قرآن کریم نے فرمایا

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِؕ اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ

ترجمہ کنز الایمان

تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے اس جیسا ہوجائے گا جو سنگ دل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں وہ کُھلی گمراہی میں ہیں

جس کو شرحِ صدر نصیب ہو جائے وہ عالمِ ربانی ہے اس کی نگاہ کتابوں کی عبارات کے حفاظ سے بہت باریک ہوتی ہے
امام حسن بصری نے فرمایا

الفتنة إذا أقبلت عرفها كل عالم وإذا أدبرت عرفها كل جاهل
فتنہ جب آتا ہے تو ہر عالم اسے پہچان لیتا ہے اور جب واپس پلٹتا ہے یعنی ختم ہوجاتا ہے تب ہر جاہل جان لیتا ہے کہ یہ فتنہ تھا
❗اخلاق العلماء للاجری ❗
علم حفظِ روایات کا نام نہیں نہ رٹا مار کر عبارات یاد کر لینے کا نام ہے نہ ذہانت کے بل پر روایات و واقعات مع جلد و صفحہ یاد رکھنے کا نام ہے
علم تو وہ ہے جس کے بارے امام مالک نے فرمایا
إن العلم ليس بكثرة الرواية إنما العلم نور يقذفه الله في القلب
علم کثیر روایت کا نام نہیں بلکہ علم تو ایک نور ہے جسے الله رب العزت دل میں ڈال دیتا ہے
❗در منثور ❗
جب یہ نور دل میں سماتا ہے شرحِ صدر نصیب ہوتا ہے آنکھوں سے پردے ہٹ جاتے ہیں
دل درست سمت سوچتا ہے دل کے سوچنے کا معیار درست ہو جاتا ہے
یہ سب کیسے ہوتا ہے؟
کثرت سے مطالعہ کے سبب
اور جو پڑھا اس کی تہ تک پہنچ جائے
امام شعبی کا دلچسپ فرمان ہے
جتنا میں نے بھلا دیا اگر کوئی یاد کر لے وہ عالم بن جائے
یعنی اتنا علم میں بظاہر بھول چکا ہوں کہ کوئی اور وہ جان لے تو عالم بن جائے
جبکہ حقیقت یہ تھی کہ جو امام شعبی بھول چکے وہ بھولے نہیں ان کے گوشت پوست , ذہن و قلب میں سرایت کر چکا تھا
جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا جب علم گوشت پوست ذہن و قلب میں اتر جائے تو یاد نہ بھی رہے تو رسوخ فی العلم حاصل ہو جاتا ہے

ذہن کو کسی کی سوچ کے مطابق نہ ڈھالیں سوائے امامِ مذہب جس کی آپ تقلید کرتے ہیں اس کے
استاذ ضرور بنائیں مگر اپنی سوچ کے پرندے کو پنجرے میں بند مت کریں
ایک فقیہ کا فرمان ہے
جو ایک استاذ کا شاگرد رہتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے
اپنے استاذ سے ہٹ دوسرے علماء کو سنیں پڑھیں ذہن کی گرہیں کھلتی ہیں
اسلاف کی سیرت پڑھیں
یہاں آپ کو نہایت قیمتی نکتہ بیان کر دیتا ہوں
اکثر طلباء و طالبات غلطی کرتے ہیں کہ علوم و فنون کی کتابیں تو پڑھتے ہیں مگر سیرتِ علماء و فقہاء و صوفیاء و محدثین سے غافل رہتے ہیں
الله کے بندو
شرحِ صدر ان کے احوال پڑھنے سے نصیب ہوگا
فقہاء و صوفیاء و محدثین کے حالات پڑھنے سے مزاجِ اسلام سمجھ آئے گا
لہذا جو پڑھا اس کو یوں سمجھیں جیسے خوراک جزوِ بدن بن جاتی ہے مگر نظر نہیں آتی ویسے ہی آپ کو بظاہر بھولا ہوا علم جزوِ قلب بن گیا ہے
اس پڑھی مگر بھولی ہوئی بات کی تاثیر آپ کے دل میں بیٹھ گئی ہے

آپ مطالعہ کو کثیر کریں آپ کی افکار میں تبدیلی آتی جائے گی
یہی تو دلیل ہے کہ علم بڑھ رہا ہے اگرچہ بظاہر آپ کو نہ عبارت یاد ہوتی ہے نہ کتاب نہ جلد یاد رہتی ہے
علم کا نچوڑ آپ کے جسم میں اتر رہا ہے یہی رسوخ فی العلم کی ابتداء ہے!
لہذا گھبرائیں نہیں مطالعہ جاری رکھیں

ایک وقت آئے گا اگر آپ کو رسوخ فی العلم نصیب ہوا آپ کو شرحِ صدر ملا تو آپ کے اندازے بھی علمِ یقین کی طرح پختہ ہوں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top