اپنے حصے کا موتی پہچانیں

الحب_و_العشق 3

••• قلبی محبت اور روحانی محبت کونسی ہے •••

چند لوگ بازار میں بیٹھے تھے کہ اچانک ایک شخص نے اپنے محبوب کو دیکھا تو زمین پر دھڑام سے گرا اور بے ہوش ہوگیا
وہاں پر موجود دانا شخص سے کسی نے پوچھا
کیا بات ہے ھم اپنے ماں باپ اور بچوں کو دیکھتے ہیں تو یہ کیفیت نہیں ہوتی جو محبوب کر دیکھ کر ہوجاتی ہے؟

اس حکیم شخص نے جواب دیا

ہماری اولاد سے محبت قلبی ہوتی ہے کہ اولاد کو دیکھ کر صرف دل دھڑکتا ہے یہ محبت فطری ہوتی ہے کیونکہ اولاد ہمارا خون ہوتی ہے
جبکہ اھلِ محبت کی محبت روحانی ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے محبوب کو دیکھتے ہیں تو ان کی روح بے چین ہو جاتی ہے اور محبوب کی طرف نکل کر جانے کی کوشش کرتی ہے
اس شوق میں خون کی روانی پہ زور پڑتا ہے جس کی وجہ سے بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے

یہی وجہ ہے کہ عاشق اپنے محبوب کو دیکھ کر ماہیِ ںے آب کی طرح مچلتا ھے
کیونکہ روح حرکت میں آتی ہے جبکہ اولاد کو دیکھ کر دل حرکت کرتا ھے
کیونکہ محبوب سے رشتہ روح کا ہوتا ھے وہ رشتہ جو عالمِ ارواح میں باھم پہچان سے قائم ہوا ہوتا ھے یہاں آکر روح روح کو پہچانتی ہے اور ملنے کی جدوجہد کرتی ہے

ہر انسان کی کسی نہ کسی سے روحانی پہچان ضرور ہوتی ہے کسی کو جلد احساس ہوتا ہے کسی کو دیر سے ہوتا ھے

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ھم کسی انجان شخص کو دیکھ کر اسکی طرف مائل ہوتے اور اس سے انسیت محسوس کرتے ہیں یہ وہی روح کی پہچان ہوتی ہے

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا تو فرمایا میں اس سے محبت کرتا ہوں
لوگوں نے کہا آپ اس سے پہلے ملے ہیں فرمایا نہیں بلکہ اس کی طرف میلانِ قلب ہوا ہے تو اس کا بھی ضرور دل میری طرف مائل ہوا ہوگا
جیسے سیپی کی قدر موتی سے ہوتی ہے ویسے انسان کی قدر محبت سے ہوتی ہے
جو سیپی موتی کے بغیر ہو وہ کوڑی کہلاتی ہے یعنی بے وقعت اور بے کار لہذا اپنا موتی پہچانیں اپنی ھم نشیں روح پہچانیں
یہ نہ ہو کہ نہ کہ آپ کے پاس نہ روح کامل ہو نہ قلب مکمل ہو
یہ حقیقت ہے مثلاً جو مجھ سے محبت کرتا ھے میرا دل بھی اس کے لیئے ضرور نرم ہوتا ہے
اور جو مجھ سے بغض رکھتا ہے میرا دل بھی اسے محسوس کرتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top