عشقِ_سیدِ_عالم 73
سب تمہاری ہی خبر تھے
تم مُؤخَّر مُبتَدا ہو
مبتداء میں اصل معرفہ ہونا ہے اور خبر میں اصل نکرہ ہونا ہے
مبتداء کی اصل مقدم ہونا اور خبر کی اصل مؤخر ہونا ہے
مبتداء کا ذکر مقدم ہونے کے باجود مؤخر کر دیا جائے تو یہ کسی خاصیت کی وجہ سے کیا جاتا ہے
امام عاشقاں احمد رضا خان بریلوی عرض کرتے ہیں
اے میرے محبوب آپ سے پہلے والے سب نبی آپ کی خبر تھے
آپ کی خبر دیتے آئے اور حضور آپ سب سے آخر میں آئے جبکہ آپ کا مقام و مرتبہ سب سے مقدم ہے
مقدم کو مؤخر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ پہلے کے نبی خبریں دیں کہ آنے والا بڑی شان والا ہے
ہر نبی خصوصیات و خاصیات سے مزین ہو کے آیا ہے اور یہ فضائل و مناقب آنے والے کی شانوں کی طرف مشیر تھے
پھر وہ آیا تو ایسی شان سے آیا کہ سیدی حسان پکار اٹھے
خلقت مبرأ من کل عیب
آپ تو ہر عیب سے پاک پیدا ہوئے ہیں
طوطی اصفہاں کہنے لگے
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
حسان الہند کہنے لگے
وہ کنواری پاک مریم وہ نَفَخْتُ فِیْہ کا دم
ہے عجب نشانِ اعظم مگر آمنہ کا جایا
وہی سب سے افضل آیا
یہی بولے سِدرہ والے چمنِ جہاں کے تھالے
سبھی میں نے چھان ڈالے تِرے پایہ کا نہ پایا
تجھے یک نے یک بنایا
وہ ایسے مبتداء ہیں کہ جن سے عالم کی ابتداء ہے
ہر شے ان کی عظمت و رفعت کی خبر دیتی ہے
نحوی اصول ہے کہ مبتداء کی کئی خبریں ہو سکتی ہیں اور ہر خبر مبتداء کی منفرد خصوصیت پر دلالت کرتی ہے
ہمارے حضور کی ابتدائی شان عقلِ انسان سے وراء ہے انتہائی شان کا بیان دائرہِ ناطقِ حیوان نہیں ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
