تصوف_وصوفیاء 56
°°° انسان مرکزِ کائنات کیوں ہے °°°
نهاية الارب فى فنون الأدب میں ہے
حکماء نے انسان کو عالَمِ صغیر (چھوٹا جہاں) کہا ہے
حکماء نے انسان کے سر کو فلک کے ساتھ تشبیہ دی چہرے کو آفتاب کے مشابہ کہا ہے کیونکہ جیسے سورج کے بغیر کائنات نہیں ہوتی ویسے چہرے کے بغیر انسان کا وجود نہیں ہوتا
انسان کی عقل کو مہتاب کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جیسے مہتاب کا نور گھٹتا بڑھتا ہے ویسے ہی عقل کم زیادہ ہوتی ہے
حواس خمسہ ( قوتِ ذائقہ, قوتِ ذائقہ, قوتِ شامہ, قوتِ سامرہ, قوتِ باصرہ ) کو کواکب سیارہ (عطارد , زھرہ, مشتری وغیرہ) کے ساتھ تشبیہ دی
انسان کی آراء کو نجومِ ثابتہ کے مشابہ قرار دیا
اشکوں کو بارش کے اور آواز کو بجلی کی کڑک کے ساتھ تشبیہ دی
ہنسنے کو بجلی کی چمک , پیٹھ کو خشکی اور پیٹ کو سمندر کے مشابہ قرار دیا ہے
گوشت کو زمین اور ہڈیوں کو پہاڑوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے
بالوں کو نبات, اعضاء کو اقالیم اور رگوں کو نہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے
❗نهاية الارب فى فنون الأدب ❗
قرآن کریم میں الله رب العالمین نے ارشاد فرمایا
وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ
تو اپنی جانوں میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے
جو عالمِ صغیر میں غور کرے گا اس پر عالمِ کبیر کے راز کھل جاتے ہیں بلکہ عالمِ صغیر میں ایسے ایسے کمالات و اسرار ہیں جس پر کھل جاتے ہیں وہ ہر لحاظ سے دوسروں سے ممتاز ہو جاتا ہے
یہی وجہ ہے کہ حدیث پاک میں آیا ہے
من عرف نفسه فقد عرف ربه
جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا
یعنی خود میں موجود لاکھوں نشانیاں ہیں جو وحدہُ لا شریک کی وحدانیت پر دلیلیں ہیں
جب انسان پر اپنی حقیقت ظاہر ہوتی ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ مسجودِ ملائک کیوں تھا
جان لیتا ہے کہ الله رب العالمین نے معصوم فرشتوں کو کیوں حکم دیا کہ حضرتِ انسان کو سجدہ کریں
جب معاملہ کھلتا ہے تو جان جاتا ہے کہ الله رب العزت نے کیوں فرمایا
ما وسعني لا سمائي ولا أرضي ولكن وسعني قلب عبدي المؤمن
میں اپنی شان کے لائق نہ آسمان میں سماتا ہوں نہ زمیں میں بلکہ بندہَ مومن کے دل میں سما جاتا ہوں
جب انسان پر اپنی حقیقت کھلتی ہے تو قلب المومن عرش الله یعنی مومن کا دل الله کا عرش ہے
اس کی حقیقت جان جاتا ہے
جب انسان عارف ہوتا ہے تو جان لیتا ہے کہ کائنات کا مرکز و محور تمام مخلوقات میں سے انسان ہی کیوں ہے؟
کیونکہ انسان میں خالقِ ارض و سماء کے وہ راز ہیں جو کسی اور مخلوق میں نہیں رکھے گئے
اور جو جتنا ان رازوں کو جانتا ہے اُتنا کامل و اکمل شمار ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
