الله رب العزت پہلے محبت کرتا ہے پھر بندہ محبت کرتا ہے

تصوف_وصوفیاء 5

سيدي احمد الرفاعي رضي الله عنه نے اپنی کتاب حالة أهل الحقيقة مع الله میں ایک حدیثِ قدسی نقل فرمائی
الله رب العزت نے ارشاد فرمایا

القلوب بيدي والحب في خزائني فلولا حبي لعبدي ما قدر العبد أن يحبني ولولا ذكري له في الأزل ما قدر أن يذكرني ولولا إرادتي إياه في القدم ما قدر العبد أن يريدني

لوگوں کے دل میرے دستِ قدرت میں ہیں اور محبت میرا خاص خزانہ ھے

اگر میں بندے سے محبت نہ کرتا تو بندے کی قدرت سے باہر تھا کہ وہ مجھ سے محبت کر سکے

اگر میں بندے کو ازل میں یاد نہ فرماتا تو بندے کی حیثیت ہی نہ ہوتی مجھے دنیا میں یاد کرنے کی

اور اگر میں بندے کا ارادہ قِدم میں نہ کرتا تو بندے کی مجال ہی نہ ہوتی دنیا میں میرا ارادہ کرنے کی
{ حالة أهل الحقيقة مع الله }

حضرت جنید بغدادی کا فرمان بھی ہے
میں سمجھتا تھا کہ بندہ رب سے محبت کرتا ہے پھر رب بندے سے محبت کرتا

جبکہ طویل عرصے بعد مجھ پر واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ بندے سے پہلے محبت کرتا پھر بندے کو توفیق دیتا ہے تو وہ اللہ جل جلالہ سے محبت کرتا ہے

محبت اس کا خاص خزانہ ہے

یہ خاص بندوں کو دیتا ھے یہ دنیاوی نشوں سے پاک انسانوں کے لئیے تحفہَ الٰہی ھے

بندہ رب تبارک و تعالیٰ کی محبت میں اس وقت تک سچا نہیں ہو سکتا جب تک سونا اور مٹی کا ڈھیر دونوں اس کے نذدیک برابر نہ ہو جائیں

جیسے مٹی کے ڈھیلے سے کتے کو بھگاتا ھے ویسے ہی مال و دولت صدقہ و خیرات کرنے سے نفس کے کتے اور شیطان کو بھگائے
ورنہ آدھا ادھورا ناکامل انسان ہی رہے گا

غور کریں مال و دولت سونا چاندی نفس کو شیطان اور دنیا جو کہ کتے ہیں ان کو مارنے کے پتھر ہیں کہ ان پتھروں سے کتوں کو مار بھگایا جائے
مگر ہم ان پتھروں کو سجا سجا کر دل میں سما لیتے ہیں
یوں نفس و شیطان کے خلاف ہتھیار سے خود کو ہی زخمی کیئے جا رہے ہیں
جس دل میں الله رب العالمین کی محبت ہوتی ہے وہاں دنیا کی محبت کی گنجائش نہیں ہوتی
اعلی کپڑے مہنگے جوتے عمدہ خوشبوئیں اونچے مکان جب تک ان کی محبت دل میں ہے الله تعالیٰ کی محبت دل میں نہیں آ سکتی`
مخلوق کی محبت ہوتے ہوئے خالق کی محبت دل میں نہیں آتی
لہذا دل کو دنیا کی محبت سے پاک کریں
دنیا سے پاک محبت کی نشانی وہی جو اوپر مذکور ہوئی کہ آپ کے نزدیک سونا اور مٹی برابر ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top