اسلامی_سائنس 9
ــــــ سر درد ٹھیک کرنے کا انگریزی طریقہ ـــــــ
علامہ نظام الدین عبد العلی بن محمد بن الحسین البرجندی الحنفی جن کا انتقال 934ھ میں ہوا
فلکیات اور ریاضی میں اپنے وقت میں سب سے کامل شخص تھے
انہوں نے بہت سی مشاہداتی مشینیں ایجاد کیں جن میں سے کچھ مشینیں توانائی سے کام کرتی ہیں اور کچھ ہوا کے زور پہ چلتیں تھیں
وہ غیاث الدین جمشید الکاشانی سے بہت متاثر تھے
جو کہ اپنے وقت کے ایک باصلاحیت اور ریاضی میں یکتائے روزگار تھے
اب لبرل اور یورپ سے متاثر ذہن کہیں گے کہ وہ ماضی تھا اب تم مسلمان کیا ہو؟؟؟
تو جناب یہ بات اچھی طرح پلو سے باندھ لو کہ اس وقت خلافت تھی سلطنتِ اسلامیہ کا وجود تھا
یہ لبرلز، سیکولرز، اور جمہوریت کا فساد نہیں تھا
طلباء دین پہلے پہل علمِ دین خوب دل جمعی سے حاصل کر کے صرف و نحو و بلاغت و تفسیر میں مہارت حاصل کرتے
اس کے بعد سائنسی علوم میں قدم رکھتے
اللہ تعالیٰ علمِ دین کی برکت سے ان پر سائنسی اسرار و رموز کھول دیتا
جس کو اسلامی سائنس کہا جا سکتا ھے
اور اسلامی سائنس سے ہماری مراد انسانوں کی ایسی ترقی جو فطرت کے خلاف نہ ہو
مثلاً گلوبل وارمنگ
ایسی ایجادات جو فطرتی نظام کے متضاد نہ ہوں
مرد کو عورت بنانا اور عورت کو مرد بنانا
ایسے نظریات جو اسلامی عقائد کے خلاف نہ ہوں
مثلاً ڈارون کے بیہودہ نظریات وغیرہ
ہم مسلمان سائنس کی حقیقت و افادیت تسلیم کرتے ہیں مگر اس پر ایمان نہیں رکھتے
اور ہمارے اجداد جو سائنس دان تھے انہوں نے جدید دنیا کو جو سائنسی سبق پڑھائے جن کو پڑھ کر یورپ یورپ بنا ہے وہ اسی اصول کے تحت تھے کہ سائنس ایجادات کا نام ہے نہ کہ محض مفروضات پر قائم” باطل نظریات کا نام
اور دیسی لبرل تو سائنس پر اتنا ایمان رکھتے ہیں کہ گویا سائنس کا رد ممکن ہی نہیں ہے
ہم سائنس کے میدان میں سب سے آگے بلکہ رہنماء تھے اور اب پیچھے کیوں ہیں ؟
کیونکہ اب نہ خلافت کا نور ھے نہ علمِ دین کی برکت ھے
محض علومِ دنیوی کی نحوست سے امت اس نوبت تک پہنچی ہے کہ ہم سے ہی علم حاصل کر کے ہمیں کو نیچا دکھایا جانے لگا ھے
اور ہمیں کو جاہل اور غیر ترقی یافتہ قوم کہا جاتا ھے
بعض جاہل یہ طعنہ مارتے نظر آتے ہیں کہ یہ جو آپ کے ہاتھ میں موبائل ہے یہ انگریزوں کی ایجاد ہے
تم لوگ انکی ایجاد بھی استعمال کرتے ہو اور انکو برا بھی کہتے ہو
ہم یہ کہتے ہیں کہ قرون وسطی میں یورپ میں جس کو سر درد ہوتا تو کہا جاتا کہ اس پر بدروح کا قبضہ ہوگیا ہے
تو اس کے سر جوتے مارے جاتے تھے تاکہ بدروح کو بھگایا جائے
تو جنابِ من مسلمانوں نے یورپ کو طب دی میڈیکل و سرجری کے علوم بخشے اگر آپ کو مقابلہ ہی کرنا ہے تو سر درد میں اپنے سر پر جوتے مارو ورنہ یہ موقع مسلمانوں کو دو وہ یہ کار عظیم انجام دیں گے
اگر مسلمانوں کی طب نہ ہوتی تو آج بھی یورپ کے ہر گھر میں سروں پر جوتے مارے جا رہے ہوتے
اپنا موبائل واپس لے جاو اور علاج میں سر پر جوتے کھایا کرو تو ہم مانیں
جہاں تک ہماری حالت زار کی بات ہے تو وہ
درسِ قراں گر ھم بھلایا نہ ہوتا
یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

