الحب_و_العشق 2
آنکھیں وہ کام کرتی ہیں جو الفاظ نہیں کر سکتے
اگر آپ کی آنکھیں بے زبان ہیں تو آپ کی زبان کے الفاظ سامنے والے پر اثر نہیں ڈال سکتے
عربی کے مشہور شاعر احمد شوقی نے آنکھوں کے بارے کہا
و إذا العيونُ تحدّثت بلغاتها
قالت مقالا لم يقلهُ خطيبُ
اور جب آنکھیں اپنی زبان میں باتیں کرتی ہیں تو ایسی بات کرتی ہیں کہ کوئی خطیب ایسی بات نہیں کر سکتا.
یعنی آنکھیں دل کی باتیں بغیر جھوٹ کے بتا دیتی ہیں اور ایسا کلام کرتی ہیں کہ زبان ان جذبات کا اظہار کرنے سے عاجز ہوتی ہے
عربی کے مشہور شاعر ادریس جمّاع کا مشہور شعر ہے
والسّيفُ في الغمد لا تُخشى مضاربهُ
و سيف عينيكِ في الحالينِ بتّارُ
تلوار میان میں ہو تو اس کی ضرب کا ڈر نہیں ہوتا جبکہ تیری آنکھوں کی تلوار تو دونوں حالتوں میں کاٹ دینے والی ہے
یعنی تیری آنکھوں کی کاٹ میان میں ہو تب بھی شدید ہے میان سے باہر ہو تب بھی شدید ہے
مطلب کہ آنکھیں جھکی تو قیامت ڈھائے اٹھ جائے تو دل دہلائے
ایک عاشقِ دل سوختہ نے کہا
تعاهدنا على أن نتقاتل بِلا سلاح فخانت العَهَد وأتت بعينيها
ہم نے آپس میں عہد کیا کہ بغیر اسلحہ کے لڑائی کریں گے تو حسینہ نے دغا کی عہد توڑ دیا کیونکہ وہ آنکھیں لے آئی
یعنی آنکھوں کے تیر چلانے لگی
دنیا کے خطرناک ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار آنکھیں بھی ہیں
شاعر نے کہا
قتلتني بعينيك الحور يا شوق
جيش أسر قلبي وقيد فؤادي
تو نے مجھے حور والی آنکھ سے قتل کیا ہائے شوق وہ آنکھیں ایسا لشکر ہیں جنہوں نے میرا دل قیدی بنا لیا اور نہاں خانہَ دل کو اپنے قبضے میں لے لیا
اردو شاعر نے کہا
ترچھی نظروں سے نہ دیکھو عاشقِ دلگیر کو
کیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کر لو تیر کو
حدیث شریف میں ہے
النظرة سهم من سهام إبليس مسمومة فمن تركها من خوف الله أثابه الله عز وجل إيمانا يجد حلاوته في قلبه
بے شک نظر شیطان کے تیروں میں سے زہر میں بجھا ایک تیر ہے جو الله رب العزت کے خوف سے بد نظری چھوڑے گا الله تعالیٰ اس کے بدلے اسے ایسا ایمان دے گا جس کی مٹھاس وہ دل میں پائے گا
❗مستدرک للحاکم ❗
اس کا ایک معنی یہ ہے کہ نگاہ کی بے راہ روی سے عشق جیسے موذی مرض سے بچا رہے گا تو دل امن و راحت سے بھرا رہے گا
علماءِ اسلام نے محبت کے مرض سے نجات دلانے کا ایک طریقہ محبوب کو نہ دیکھنا بیان کیا ہے
مثلاً شراب کا ایک گھونٹ نشہ نہیں لاتا دو گھونٹ نشہ پیدا کرتے ہیں تین گھونٹ مزید نشہ چار مزید نشہ تو اسی طرح بار بار محبوب کو دیکھنا نشہَ محبت بڑھاتا ہے
ترکِ نظارہَ محبوب عشق کا ایک علاج ہے
ایسے ہی ترکِ یادِ محبوب عشق کا ایک علاج ہے
آداب الشریعہ میں ابن مفلح حنبلی نے اس کا افادہ فرمایا ہے
اس کو تھام لو مفید نکتہ ہے
آنکھوں کا تیر کبھی نظرِ بد بن کے موت کا سبب بن جاتا ہے
اور کبھی نظر بگڑی تقدیر بنا دیتی ہے
نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
بہر حال آنکھیں سچ بولتی ہیں اور دل تک جانے کا رستہ آنکھوں میں ہے
بقول شاعر
جس طرف اٹھ گئیں ہیں، آہیں ہیں
چشمِ بدور، کیا نگاہیں ہیں
آنکھیں جکڑ لیتی ہیں آنکھیں باندھ لیتی ہیں آنکھیں قیدی بنا لیتی ہیں
بقول شاعر
ایسی آنکھوں کے تصدق میری آنکھیں بیدم
آتا ہے جنہیں اغیار کو اپنا کرنا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
