آزاد ذہن بن جائیں غلام ذہن نہیں

ردِ_سائنسِ_جدیدہ 8

جانتے ہیں یہ کیا ہے؟
یہ سٹار لنک ہے
آپ کو رات میں کبھی کبھار قطار میں روشنیاں سفر کرتی نظر آتی ہیں
یہ وہ روشنیاں ہیں
یہ ہے کیا؟
یہی سٹلائٹس ہیں
جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا بے شمار محقق سائنس دان جو ناسا کی سپیسز اور جیمز ویلی یا ہبل وغیرہ پر بالکل یقین نہیں رکھتے
وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ فراڈ ہے
خبردار کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ صرف ہمارا موقف ہے
گوگل موجود ہے براؤزر کھولیں اور سرچ کریں
کثیر تعداد آپ کو یہ موقف بیان کرتی نظر آئے گی
سٹلائٹس کا وجود نہیں ہے ہوا میں سٹار لنک اور غبارے چھوڑ کر نیٹ کا نظام چلایا جاتا ہے
ویسے تو تمام ممالک کو نیٹ سے ایک عظیم تار جوڑتی ہے جو سمندروں سے گزر کر ممالک میں رابطہ بناتی ہے
اگر سیٹلائٹ کا نیٹ حقیقت میں ہے تو ان تاروں کا وجود کیوں ضروری ہے جو سمندروں میں بچھی ہیں؟
ان کے ڈرامے وہی لوگ حقیقیت جانتے ہیں جو ہالی ووڈ دیکھ دیکھ کر ذہنی مریض بن چکے ہوتے ہیں اور اس کو سائنس کا نام دیتے ہیں
ان احمقوں کی سائنس ہالی ووڈ کی فلموں سے ثابت ہوتی ہے


سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top