عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 82
لاتجبروا أحداً على إعتناق أرواحكم فالحب مثل الدين لا إكراه فيه
کسی پر بھی جبر نہ کرو کہ تمہاری روح سے گلے ملے محبت تو دین کی مثل ہے جس میں زبردستی نہیں ہوتی
❗ الرومي ❗
یعنی آپ کسی سے زور زبردستی محبت نہیں کر سکتے نہ کس کو خود سے محبت کرنے ہر مجبور کر سکتے ہیں
محبت تو روحوں کی پہچان کا نام ہے یہ لطافت و رحمت سے ہوتی ہے زور و جبر سے پہچان کی ابتداء ہی نفرت سے ہوتی ہے
لہذا جو تم سے منہ موڑے اس کے پیچھے مت جاؤ اسے قائل کرنے کی کوشش اور مائل کرنے کے انداز نہ اپناؤ
جو روح تمہاری روح سے مانوس ہے اس کی روح خود ہی آ کر تمہارے گلے لگ جائے گی نہ قائل کرنا پڑے گا نہ مائل کرنا پڑے گا
اور جس کی محبت ازل سے تم پر قائم و دائم ہے اس کی محبت بھول کر دنیاوی و فانی محبت تلاش کرنا حماقت ہے
اٹھو اور اسی محبوب کی تلاش کرو اور دن میں پانچ بار سجدے کرو جب اس کی محبت سمجھ آنے لگے گی تو زندگی کا مقصد سمجھ آنے لگے گا
جسے اس کی محبت سمجھ آ جائے ان میں سے کوئی آگ میں کود جاتا ہے تو کوئی چھری تلے گردن رکھ دیتا ہے تو کوئی چھ ماہ کا بچہ اپنے ہاتھوں میں اس پر قربان کر دیتا ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
