عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 72
الجمال الذي تراه بداخلي هو انعكاس لك
وہ جمال جو تو میرے اندر دیکھتا ہے وہ تو تیرا ہی عکس ہے
❗ الرومي ❗
سایہَ محبوب سیاہ نہیں منَوِّر ہوتا ہے جو قلب و روح کی تاریکیوں کو دھو دیتا ہے
محبوب کی ہر ادا کو ادا کرنے کا جذبہ ایک دن آپ کے اندر محبوب کی صفات پیدا کرتا ہے
پھر جیسے امیر خسرو نے کہا
من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری
❗ترجمہ ❗
میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے
اپنی میں اپنی انا اپنی ہستی اپنی ذات ختم اور محبوب کی ذات ہی باقی ہے
محبوب کا عکس اپنے اندر تبھی چمکتا ہے جب اپنا آپ مٹا دیا جائے
یار کے سامنے میں میرا میری کہنا اہانتِ عشق ہے
اے عشاق اپنی اناؤں کو مٹاؤ کیونکہ فناء میں ہی بقاء ہے
!کیونکہ شہیدِ عشق زندہ ہوتا ہے
خواجہ غریب نواز کی وفات کے بعد ان کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا
حبیب اللہ مات فی حب اللہ
اللہ کا پیارا اللہ کی محبت میں وفات پا گیا
بقول شاعر
جو کوئی بھی تری راہ میں مر گیا اپنی زندگی کو جاویداں کر گیا
میں شہیدِ وفاء ہو گیا تو ہوں تو کیا زندگی میرے گھر سے کہاں جائے گی
سیدمہتاب_عالم# ✍️
