شرابِ عشق

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 64

میری شراب ازلی ہے
شرابِ عشق ازلی ہوتی ہے
شرابِ توحید ابدی ہوتی ہے
اسی میں ہم مست ہیں
اور یہ شراب بہکاتی نہیں بلکہ ہوشمند بناتی ہے
یہ شراب شرابِ فناء بھی ہے شرابِ بقاء بھی ہے جس نے اسے نہ چکھا وہ دنیا کا سب سے بدبخت ترین انسان ہے
یہ کیف و مستی بھری شراب شیطان کی پیروی میں چلنے والے نام کے موحدین نہیں بلکہ بغداد و اجمیر کے مے خانے پلاتے ہیں
یہ شرابِ عشق ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top