نماز اور محبت

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 9

الحب كالصلاة فكلاهما دون الطهارة باطلان والعشق كالوضوء إن شككت به نقض

❗ جلال الدين الرومي ❗
محبت نماز کی طرح ہے دونوں (محبت و نماز) بغیر پاکی کے ادا نہیں ہوتے
اور عشق وضوء کی طرح ہے اگر شک پیدا ہو جائے تو وضوء باقی نہیں رہتا
مگر آج لوگوں نے ہوس کو ہی محبت سمجھ رکھا ہے ناپاک کی طلب نے پاک کو بدنام کر دیا
اور جس عشق میں محبوب کے بارے شک ہو وہ عشق باقی نہیں رہتا
لاکھ صلح کر لیں اب وہ نرا وبالِ بن گیا ہے
جبکہ محبتِ حقیقی میں پانی کی جگہ لہو سے وضوء کیا جاتا ہے اور یہ دائمی طہارت ہے
یہاں اپنی جان و اولاد کے لہو پر عمارتِ عشق کی بنیاد ڈالی جاتی ہے
اور یقین جانیں یہ سودا پھر بھی سستا ہے
✍️ سیدمہتاب_عالم#

Scroll to Top