کیا ہم کسی کے محسن ہو سکتے ہیں

ذاتی_مطالعہ 166

سیدنا عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا
ليس الإحسان أن تحسن إلى من أحسن إليك تلك مكافأة بالمعروف إنما الإحسان أن تحسن إلى من أساء إليك
احسان یہ نہیں ہے کہ تم اس سے بھلائی کرو جو تم سے بھلائی کرتا ہے یہ تو بدلہ ہے
احسان تو یہ ہے کہ تم اس سے بھلائی کرو جو تم سے برائی کرے
الخطب و المواعظ لابی عبید السلام صفحة ١٥٦
کسی سے بھلائی کر کے بھلائی کی توقع سودا بازی ہے
احسان تو پھر احسان ہے
ظلم و ستم کرنے والے اور جفاء سے پیش آنے والے سے بھلائی کرنا احسان ہے
ہم پر الله رب العزت کی ہر عطاء مطلقاً احسان ہے
ہماری کسی نیکی کا بدلہ نہیں ہوتا کیونکہ ہماری نیکی بھی ملاوٹ والی ہوتی ہے اور اتنی بھی نہیں ہوتی کہ اس کا عظیم بدلہ دیا جائے اور پھر ہمارے گناہ اتنے کہ نیکیاں کم پڑ جائیں اور پھر ہماری کسی نیکی کا فائدہ ہمارے رب کو نہیں ہوتا کیونکہ وہ فائدہ لینے سے پاک ہے
ہماری نیکی ہمارے فائدے کے لیئے ہوتی ہے تو اس پر اجر یا دنیاوی صلہ ہم پر احسان ہی ہے
رہا ہمارا لوگوں پر احسان کرنا تو یہ بھی ہماری غلط فہمی ہوتی ہے کیونکہ ہم کسی کی پریشانی دور کرنے والے نہیں بلکہ ایک واسطہ ہیں و بس اور واسطے محسن نہیں ہوتے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top