ام المحققین کی عجیب تمنا

قابلِ_تقلید_خواتین 18

ملک شام کی محققہ سكينة الشهابي تھیں
یہ 1933 میں پیدا ہوئیں
ان کی وفات 2011 میں ہوئی
انہوں نے بے شمار کتب پر تحقیقی کام کیا اس وجہ سے ان کو ام المحققین کہا جاتا ہے
خاص طور پہ تاریخ ابن عساکر پر زندگی بھر کام کیا
اور امام ابن عساکر کی دیگر کتب پر کام کیا
انہوں نے عمر بھی شادی نہیں کی بلکہ یہ کہا کرتی تھیں
لعلي إن شاء الله أكون من زوجات الحافظ ابن عساكر في الجنة أو أسأل الله أن يجعلني زوجته في الجنة
مجھے امید ہے میں جنت میں حافظ ابن عساکر کی بیویوں میں سے ایک بیوی ہوں گی
یا پھر میں الله رب العزت سے مانگوں گی کہ مجھے ابن عساکر کی بیوی بنا دے
سكينة الشهابي کا یہ تمنا و دعاء کرنا معیوب نہیں بلکہ حافظ ابن عساکر سے روحانی و علمی تعلق کی گواہی دیتا ہے
ابن عساکر سات سو سال پہلے کے محدث تھے اور یہ چودہویں صدی کی محققہ تھیں
یہی سچی محبت ہے کہ محبوب کے کام و مقصد کو آگے بڑھایا جائے خواہ اپنی عمر اس میں گزر جائے
اھلِ عرب کہتے ہیں
عفیف{ پاکدامن } کے عشق سے بچو کہ وہ جب کرتا ہے تو شدت سے کرتا ہے
ان کے سوا اور بہت سے علماء و عالمات گزرے ہیں جنہوں نے کبھی شادی نہیں کی تھی
_کتنے ہی علم والے علمی تعلق کی بناء پر دوسرے علم والوں سے خاموش محبت میں زندگی گزار دیتے ہیں_
یہ علمی تعلق ہم زمانے میں بھی ہوتا ہے اور صدیوں کے فاصلے سے بھی ہوتا ہے
العلماء العذاب نام سے کتاب موجود ہے جس میں کنوارے علماء کا ذکر ہے
علم کی انتہاؤں کو چھونے والا اگر شادی نہ کرے تو بڑی گہری وجہ ہوتی ہے
زمانے کے فتنوں سے بچنے کا ایک بہترین طریقہ علم میں مشغول ہو جانا ہے
اور دینی طالبات کے لیئے سکینہ الشھابی جیسی خواتین ہی قابلِ تقلید ہونی چاہیئے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top