اسلامی_طرزِ_تربیت 248
امام خلیل نحوی فرماتے ہیں
ثلاثة ينسين المصائب مرّ الليالي والمرأة الحسناء ومحادثة الرجال
تین چیزیں مصائب بھلا دیتی ہیں
راتوں کا گزرنا و حسین عورت اور مُردوں سے باتیں کرنا
« معجم الأدباء لیاقوت الحموی ج ٣ ص ١٢٦٥ »
تین میں ایک تو موجود ہے
باقی دو کی انتہائی قلت ہے
یعنی راتوں کا گزرنا تو عام ہے اور یہ نظامِ قدرت ہے کہ راتوں کے گزرنے میں *خاص تاثیر* ہے جو بڑے سے بڑا غم بھلا دیتی ہے
اھلِ عرب کہتے ہیں
اللَّيلُ جَلابُ الهُمومِ
رات غموں کو کھینچ لیتی ہے
کیونکہ رات میں کام کاج سے فراغت اور شور شرابہ و آمد و رفت نہیں ہوتی تو غم یکبارگی سے ٹوٹ پڑتے ہیں اور ہر طرف سے رنج و الم گھیر لیتے ہیں
پھر ہر ایک کی جفاء و وفاء یاد آتی ہے اور ایک دل ہزار غم تلے دب جاتا ہے
بقول شاعر
شبِ فراق نہ تم آسکے نہ موت آئی
غموں نے گھیر لیا تھا غریب خانے کو
جب غم کثرت سے آتے ہیں تو مٹ جاتے ہیں
بقول غالب
رنج سے خوگر انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں
بہر حال نہ بہترین دوست رہے جن سے دل کی باتیں کر کے بوجھ اتارا جائے
نہ فطری حسن و جمال باقی رہا
سیدی عبد الله بن مبارک فرماتے ہیں
ألذ الأشياء مجالسة الإخوان والمودة الدائمة هي التي تكون في الله وما يكون لغرض يزول بزوال ذلك الغرض
دنیا کی سب سے لذید شے دوستوں کے ساتھ بیٹھنا ہے
اور دائمی محبت یہ ہے کہ جو الله کی رضاء کے لیئے ہو
اور جو کسی غرض و مطلب سے دوستی ہو وہ غرض ختم ہونے پر دوستی و محبت ختم ہو جاتی ہے
« احیاء العلوم »
دوستی کا صرف لفظ رہ گیا ہے
حقیقی دوستی تو یہ ہے جو امام اعمش فرماتے ہیں
ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ دوست ایک یا دو ماہ تک ملاقات نہ کرتے تھے
جب ملتے تو صرف یہ پوچھتے
کیسے ہو ؟
کیا حال ہے ؟
اور اگر ایک دوسرے سے آدھا مال مانگتا تو دے دیا جاتا
اور پھر ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ دوست ایک دن نہ ملاقات کرے تو اس کے بارے حتی کہ اس کی مرغی کا حال و احوال پوچھتے ہیں
اور *ایک دوسرے سے مال کا ذرہ مانگ لے تو نہیں دیا جاتا*
« ربيع الأبرار »
دوستی دل سے ہو تو دنیا میں اس سے مزے کی شے کچھ نہیں ہے
ایک بوڑھے شخص کو کہا گیا
تمہارے لیئے دنیا میں اب کونسی لذت باقی ہے ؟
کہنے لگا
محادثة الإخوان في الليالي القمر على الكثبان العفر
چاند رات میں سرخ سفید ٹیلے پر دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا
« محاضرات الادباء »
اسی طرح ایک نہایت عمر رسیدہ شخص سے سوال ہوا
آپ کے لیئے دنیا اب میں کونسی لذت باقی ہے جبکہ جماع کی قوت نہیں اور منہ میں دانت نہیں کہ کھا سکیں
کہنے لگے
دوستوں کی مجلس والی لذت سب سے بڑھ کر ہے جو اب بھی باقی ہے
بہترین دوست وہی ہے جو منہ پہ مخلص ہو تو پیٹھ پیچھے بھی مخلص ہی ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم
