حضور کو راحت پہنچائیں

عشقِ_سیدِ_عالم 79

اھلِ علم نے فرمایا
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ دَائِمَ الشَّوْقِ إِلَى لِقَاءِ اللَّهِ لَمْ يَسْكُنْ شَوْقُهُ إِلَى لِقَائِهِ قَطُّ وَلَكِنَّ الشَّوْقَ مَائَةُ جُزْءٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لَهُ وَجُزْءٌ
مَقْسُومٌ عَلَى الْأُمَّةِ
حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وسلم الله رب العزت سے ملاقات کا دائمی شوق رکھتے تھے
حضور کا مبارک دل شوقِ لقائے الٰہی سے کبھی پرسکون نہ ہوا
شوق کے سو اجزاء ہیں نناوے حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وسلم کے لیئے اور ایک جزء امت کے لئے ہے
« مدارج السالکین ج ٣ ص ٥٣ »

حضور متواصل الاحزان تھے
یعنی مسلسل غمزدہ رہنے والے

حضور دائم الفکرۃ تھے
یعنی ہمیشہ سوچنے والے

حضور دائم الشوق تھے
ہمیشہ الله رب العزت سے ملاقات کا شوق رکھتے تھے
حضور دائم البشر تھے
ہشاش بشاش چہرے والے مسکراتے چہرے والے
ہمیشہ غمگین رہنے والے اور ہمیشہ مسکرانے والے بظاہر تضاد ہے
ذرا تصور کریں قلبِ مبارک امت کے لیئے رنجیدہ ہے مگر امتیوں کے دل چہرہ انور مسکرا رہا ہے
الله الله
ایک پیاری جان جس پر ہزاروں بوجھ
رب العالمین سے ملنے کا شوق
امت کا درد مگر پھر بھی مسکراتے ہیں
چہرہ پاک پر خوشی و غمی کے ملے جلے اثرات کس کے لیئے؟

امام احمد رضا خان بریلوی عرض گزار ہیں
اِدھر ُامّت کی حسرت پر اُدھر خالق کی رحمت پر
نِرالا طَور ہوگا گردشِ چشم شفاعَت کا
نبی وہی ہوتا ہے جو خالق سے لیکر مخلوق میں تقسیم کرے
خالق تبارک و تعالیٰ سے لیا اس سے ملاقات کا شوق بڑھا یہ غم ہے
مخلوق کے احوال دیکھے تو ان کی آخرت کا غم ہے

تو کیوں نہ ان کو راحت پہنچائیں
نیک اعمال کریں حضور کو راحت پہنچتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top