بڑے مقام بڑی آزمائش

آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 52

جب امام حسین کو شہید کر دیا گیا اور سیدہ زینب کو قیدی بنایا گیا
سیدہ زینب میدانِ کربلاء میں کھڑی ہوئیں اور پکار کر کہنے لگیں
يا محمداه! يا محمداه! صلى عليك الله وملك السماء، هذا حسين بالعراء، مزمَّلٌ بالدماء، مقطعُ الأعضاء يا محمداه! وبناتك سبايا، وذريتك مقتلة، تسفي عليها الصبا
یا محمداہ یا محمداہ آپ پھر الله نے درود بھیجا آسمان کے فرشتے نے درود بھیجا
یہ حسین بے لباس پڑا ہے
خون میں لت پت ہے
اعضاء کٹے ہوئے ہیں
یا محمداہ
آپ کی بیٹیاں قیدی بنا لی گئیں
آپ کی اولاد قتل کر دی گئی
ہوا ان پر خاک اڑا رہی ہے
امام حسن بصری فرماتے ہیں
قتل مع الحسين ستة عشر رجلا كلهم من أهل بيته، ما على وجه الأرض يومئذ لهم شبه
حسین کے ساتھ سولہ افراد جو ان کے گھر والوں میں سے تھے شہید کیئے گئے
زمین پر اُس دن ان جیسا کوئی نہیں تھا
❗ البدايه والنهايه ❗
یعنی علم و فضل حسب و نسب تقوی و طہارت میں ان کی مثل روئے زمین پر کوئی نہیں تھا
استاذِ زمن عرض کرتے ہیں
کوئی کیوں پوچھے کسی کو کیا غرض اے بیکسی
آج کیسا ہے مریضِ نیم جانِ اَہل بیت
گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے
جانِ عالم ہو فدا اے خاندانِ اَہل بیت

محمد بن حنفیہ کے پاس جب شہادتِ حسین کا ذکر ہوا تو کہنے لگے
قُتِلَ مَعَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ شَابًّا كُلُّهُمُ ارْتَكَضَ فِي رَحِمِ فَاطِمَةَ
حسین کے ساتھ سترہ جوان شہید ہوئے جو فاطمہ کے پیٹ میں حرکت کرتے تھے
❗ المعجم الكبير للطبراني ج ٣ ص ١١٩ ❗
امام حسین نے اسلام کے لیئے دین بچانے کے لیئے اپنے ہیرے جواہرات لٹا دیئے
یہ ایک عہد تھا جو پورا کیا
اور اس کا صلہ جنت کے جوانوں کی سرداری ملا اور اولادِ حسین میں قطبیتِ کبریٰ کا ہونا ہے

دولت دیدار پائی پاک جانیں بیچ کر
کربلا میں خوب ہی چمکی دُکانِ اَہلِ بیت

اپنا سودا بیچ کر بازار سونا کر گئے
کونسی بستی بسائی تاجرانِ اَہلِ بیت
امام حسین کی مع کنبہ شہادت بعد میں آنے والوں کے لیئے قطبیتِ کبریٰ کی بشارت تھی
پھر دنیا نے دیکھا اِس مبارک خاندان سے اکابر اولیاء کرام پیدا ہوئے اور قاتلینِ حسین کی نسلیں اس طرح منہ چھپاتی پھرتی ہیں کہ ان میں کوئی مشہور عالم بھی نہ ہو سکا
بہر حال بڑے مقام کو بڑی آزمائش کے ذریعے ہی پایا جا سکتا تھا اسی وجہ سے اس خاندانِ عالیشان کے دادا ابراھیم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام نہ جھجھکے اور نہ ان کے بیٹے حسین گھبرائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top