تاریخِ_اسلامی 94
عثمانی پہلے خلیفہ سلطان یاوز سلیم جہاد پر جا رہے تھے تو راستے میں ایک باغ تھا
لشکر نے کچھ دیر وہاں آرام کیا یہ کبزہ نامی جگہ تھی
یہاں رنگ برنگے پھل اور نادر میوہ جات تھے
سلطان کو خیال آیا کہیں کسی سپاہی نے بغیر اجازت کے پھل میوے توڑ کر تو نہیں کھا لیئے
تو سلطان نے حکم نامہ جاری کیا کہ تفتیش کی جائے کس سپاہی نے پھل میوے کھائے ہیں
جب تفتیش کی گئی تو ایک بھی سپاہی نہیں تھا جس نے کوئی پھل توڑ کے کھایا ہو
سلطان بہت خوش ہوئے اور شکر ادا کرنے لگے
اللهم لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك فأنت من أنعمت علي بجيش لا يأكل الحرام
اے الله تیری ہی حمد ہے جیسی تجھے شان ہے تو نے مجھ پر ایسا لشکر عطاء فرما کے احسان فرمایا کہ جو حرام نہیں کھاتا
پھر سلطان لشکر کے قائد کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے
يا آغا لا يمكن لجيش ياكل الحرام أن يفتح البلاد
اے آغا جو لشکر حرام کھاتا ہو اس کے لیئے ممکن ہی نہیں کہ وہ شہر فتح کر سکے
❗ بصمات خالدۃ ص ٤٤ ❗
مُلکوں کی فتح حلالی اور حلال کھانے والوں کا کام ہے
جب کرتوت کفار والے ہوں تو اپنے جیسوں پر کون حملہ کر کے فتح پا سکتا ہے
جب منگول مسلمانوں کے کرتوت کی سبب عذاب بن کر مسلط ہوئے تو ایک بزرگ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ فرشتے اوپر سے پکار رہے تھے ايها الكفرة اقتلوا الفجرة اے کافرو اِن فاسق مسلمانوں کو قتل کر دو
کہا جاتا ہے اب مسلمانوں کے کرتوت ایسے ہیں کہ ابابیل آئیں تو مسلمانوں پر ہی پتھر گرائیں گے
آج کا نوجوان گفتار کا غازی ہے کردار کا غازی نہیں ہے
باتوں سے ممالک فتح کر لیتے ہیں اور عمل فجر کی نماز میں کھڑا نہیں ہو سکتا
آج فوجی ہیں سپاہی ہیں مجاہد کہاں ہیں ؟
مجاہد عقیدے و عمل میں کامل مومن ہوتا ہے محض تنخواہوں کے لیئے فوج میں بھرتی ہونے والا مجاہد نہیں ہوتا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
