آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 43
رُزَيْق الْقرشِي الْمدنِي مولا علی کرم الله وجہہ الکریم کے آزاد کردہ غلام تھے
یہ جب عمر بن عبد العزیز کے دورِ خلافت میں اُن کے پاس گئے تو فرمانے لگے
میں مدینہ کا رہنے والا ہوں میں نے قرآن و حدیث سے اتنا اتنا حفظ کیا ہوا ہے مگر میرا نام دیوان میں نہیں ہے یعنی جن کو ماہانہ وظیفہ ملتا ہے
عمر بن عبد العزیز نے پوچھا
آپ کس قبیلے سے ہیں ؟
فرمایا
میں بنو ہاشم کا آزاد کردہ غلام ہوں
عمر بن عبد العزیز نے پوچھا بنو ہاشم میں سے کس کے آزاد کردہ غلام ہیں ؟
فرمایا
مسلمانوں میں سے ایک آدمی کا غلام ہوں
عمر نے فرمایا
میں آپ سے پوچھ رہا ہوں اور آپ مجھ سے چھپا رہے ہیں
رزیق نے فرمایا
میں علی بن ابی طالب کا آزاد کردہ غلام ہوں
بنو امیہ کے دربار میں مولا علی کا ذکر نہیں کیا جاتا تھا اس وجہ سے انہوں نے نام نہ لیا
تو عمر بن عبد العزیز رو پڑے حتی کہ آنسو زمین پر گرنے لگے پھر عمر بن عبد العزیز فرمانے لگے
أَنا مولى عَليّ أَن النَّبِي ﷺ قَالَ من كنت مَوْلَاهُ فعلي مَوْلَاهُ
میں بھی علی کا آزاد کردہ غلام ہوں بے شک حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
جس کا میں مولا اُس کا علی بھی مولا ہے
پھر عمر بن عبد العزیز نے اِن کو انعام دینے کا حکم دیا
ایک قول کے مطابق وہ *عمر بن المورق* تھےسیدی عمر بن عبد العزیز نے ان کو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غلامی کی وجہ سے پانچ سو دینار وظیفہ دیا جبکہ ان جائے افراد کا وظیفہ ڈیڑھ سو یا دو سو دینار ہوتے تھے
❗ الوافي بالوفيات ص ٧٨ ❗
عمر بن عبد العزیز نے مولیٰ کا معنی آزاد کردہ غلام لیا کیونکہ رزیق نے مولیٰ علی کہا تو عمر بن عبد العزیز نے بھی اسی معنی کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو مولیٰ علی کہا تھا
پھر عمر بن عبد العزیز نے مولا علی کی غلامی کی نسبت کی وجہ سے ان کو *دوسروں سے دوگنا وظیفہ* عطاء فرمایا جو کہ واضح کرتا ہے کہ اھلِ بیت کے غلاموں کا مقام بھی دوسروں سے بلند ہے خود اھلِ بیت کی شان کا عالم کیا ہوگا
بلکہ اھلِ بیت کے آزاد کردہ غلاموں کو زکوۃ نہیں لگتی یعنی اگر کوئی اھلِ بیت کے غلاموں کو زکوۃ دے گا تو اس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی
یہ کتنا بڑا شرف و مقام ہے کہ اِن پاک نفوس پر زکوۃ لگتی ہی نہیں اِن کے غلاموں بھی اتنے ستھرے ہیں کہ مال کا میل کھانا ان کو منع ہے
سیدی عمر بن عبد العزیز نے مدینہ کے حاکم ابو بکر بن محمد بن حزم کو لکھا کہ آل ابی طالب میں دس ہزار دینار تقسیم کر دو
تو اس نے جواب میں لکھا
آلِ ابی طالب میں سے کس فرد کی اولاد کو تقیسم کروں ؟
تو عمر بن عبد العزیز نے اسے لکھا
اگر میں تجھے لکھ دیتا کہ ایک بکری ذبح کرو تو کیا تم پوچھتے کہ سفید بکری ذبح کرنی ہے یا سیاہ کرنی ہے ؟
تم مولا علی کی اُس اولاد پر تقسیم کرو جو سیدہ فاطمہ سے ہے اِن کے بہت حقوق ہیں جو ادا نہیں کیئے گئے
❗ مرآة الزمان ص ٢٩٥ ❗
حاکم نے آل رسول پر خرچ کرنے میں حیل و حجت سے کام لیا تو عمر بن عبد العزیز نے اسے سرزنش کی اور فرمایا طویل عرصے سے آلِ پاک کا حق مارا جاتا رہا ہے اب ان کے حقوق ادا کرو
میں بہت عرصے سے غور کرتا ہوں کہ آلِ رسول کی تعظیم و تکریم اور ان کے حقوق کا لحاظ خاندانی بندہ ہی کرتا ہے خواہ وہ غریب ہو یا علم والا نہ ہو
گھٹیا بندہ کبھی آلِ رسول کی تعظیم نہیں کرتا خدمت تو دور کی بات ہے
بہت سے علم سے مشہور لوگ دیکھے کہ جن کو شہرت یا منصب مل جاتا ہے پھر وہ آلِ رسول کو بھی ہلکا لینا شروع کر دیتے ہیں وجہ یہ ہے وہ لوگ خاندانی نہیں ہوتے
خاندانی بندہ مروت والا ہوتا ہے اور کم نسل بے مروت ہوتا ہے اسے جب منصب و شہرت مل جائے تو یہ گنجے کو ناخن مل جانے والی بات ہے
گھٹیا آدمی کی نشانی ہے جب اسے منصب ملتا ہے تو یہ خاندانی لوگوں کو ذلیل و خوار کرتا ہے بلکہ میں اس خواری سے گزرا ہوں
یہ میرا مشاہدہ بھی ہے
عمر بن عبد العزیز بنو امیہ کے اعلی خاندان سے تھے تو ان میں اعلی صفات تھیں
بنو امیہ میں سے سیدی عثمان غنی و امیر معاویہ اور عمر بن عبد العزیز کے سوا اکثر ظالم و جابر تھے
عثمان غنی تو ذوالنورین ہیں
امیر معاویہ اول ملوکِ اسلام ہیں
عمر بن عبد العزیز اول مجددِ اسلام ہیں
رضی الله عنہم
ان تین ہستیوں کی سیرت پڑھیں یہ اھلِ بیت سے بہت محبت کرنے والے تھے
باقی بنو امیہ میں تعصب کوٹ کوٹ کے بھرا تھا
پہلے دو جلیل القدر صحابی تیسرے عظیم الشان تابعی ہیں
بہر حال جب آلِ رسول سے سلام و کلام لین دین ہو تو خاندانی رویہ رکھیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
