اسلامی_طرزِ_تربیت 235
ایک شاعر نے اپنے دوست شاعر جس کا نام توفیق تھا جوتا تحفے میں بھیجا
اور ساتھ یہ اشعار بھیجے
لقـــد أهــديت توفيقاً حذاء
فقـــال القائلــــون وماعليه
میں نے توفیق کو جوتا تحفے میں بھیجا
کہنے والوں نے کہا اس پر کچھ بوجھ نہیں
أما قال الفتى العربي يوما
شبيه الشيء منجذب إليه
کیا ایک دن عربی نوجوان نے کہا نہیں تھا کہ شے کی مشابہ اپنی جیسی شے کی طرف مائل ہوتی ہے
یعنی اس نے جوتا بھیجا اور کہا تم جوتے جیسے ہو اسی وجہ سے ہوتا تمہاری طرف مائل ہوا
توفیق نے اسے جواباً اشعار لکھ بھیجے
لو كان تهدى إلى الإنسان قيمته
كانت هديتك الدنيا وما فيهــا
اگر تم انسان کی طرف اس کی قیمت کے برابر تحفہ بھیجتے تو تمہارا تحفہ دنیا و جو کچھ دنیا میں ہر وہ ہوتا
لكنْ تقبلت هذا النعل معتقداً
أن الهدايا على مقدار مهديها
لیکن میں نے یہ جوتا قبول کر لیا ہے یہ اعتقاد رکھتے ہوئے کہ تحائف تحفہ بھیجنے والے کی حیثیت کے مطابق ہوتے ہیں
یعنی اگر تم میری حیثیت کے مطابق بھیجتے تو دنیا کی ساری دولت تحفہ میں دیتے مگر تم نے اپنی حیثیت کے مطابق تحفہ بھیجا جو کہ ایک جوتا ہے
تحفہ لینا دینا سنت ہے اور تحفہ کے آداب میں سے ہے کہ رد نہ کیا جائے
مگر فی زمانہ مذہبی طبقہ کو تحفہ دے کر احسان سمجھا جاتا ہے
مذہبی طبقہ میں اتنا استغناء ہونا چاہیے کہ کسی کا تحفہ قبول کریں تو تحفہ دینے والا شکر کرے کہ قبول ہوا
انسان کو زیادہ چلاک نہیں بننا چاہیئے ورنہ توفیق کی طرح جواب آئے تو بندہ بے توفیق ہو جاتا ہے
آپ کی حیثیت ہے اور مذہبی شخص کو تحفہ دینا چاہتے ہیں تو حج یا عمرہ کروا دیں
کسی عالم و مفتی صاحب کا گاڑی دے دیں کیونکہ عالم کی حیثیت کے مطابق آپ تحفہ دے ہی نہیں سکتے
بعض لوگ بڑے سیانے ہوتے ہیں جو ہزار پانچ سو تحفہ مین دیکر چاہتے ہیں مفتی صاحب علامہ صاحب مجھے یاد رکھیں گے
اور بعض ان سے زیادہ سیانے ہوتے ہیں جو توفیق کے باجود صرف دعاؤں میں یاد رکھنے کا عرض کرتے ہیں
اور جو سب سے زیادہ سیانے ہوتے ہیں وہ واقعی بڑے بڑے تحائف دیتے ہیں
یہ لوگ آخرت پر یقینِ کامل اور علامہ و مفتی صاحب کے سچے محب ہوتے ہیں
میرے نزدیک تحفہ نہ بھیجنے والے کی حیثیت کے مطابق ہوتا ہے نہ لینے والے کی حیثیت کے مطابق ہوتا ہے بلکہ یہ دونوں کے مابین محبت کے مطابق ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
