محبت قربانی کا نام ہے

الحب_و_العشق 17

جبران خلیل جبران کی محبت میں دیوانگی کی حد تک گرنے والی شاعرہ زیدہ نامی عورت تھی
••• بیس سال سے زیادہ عرصے سے وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر خطوط کا تبادلہ کرتے رہے •••
بیس سال تک وہ عورت نیویارک میں ہے اور خلیل جبران قاہرہ میں رہا
ایک بار پر جبران نے اس عورت کی تصویر مانگی کہ مجھے اپنی تصویر بھیجو دیکھوں تم کیسی ہو
تو زیدہ نے کہا آپ میرا تصور کریں اور بتائیں میں کیسی ہوں گی؟
خلیل جبران نے کہا
تمہارے بال چھوٹے ہیں جو کانوں کی لو سے کچھ نیچے ہوں گے
جبکہ حقیقت میں اس عورت کے بال بہت طویل تھے
تو اس نے اپنے اتنے ہی باقی رکھے جتنے خلیل جبران نے تصور میں دیکھے باقی بال کاٹ دیئے
اور تصویر بنا کر خلیل جبران کو بھیج دی
°°° عورت کا بال کاٹنا کتنا بڑا کام کیسی قربانی ہے یہ مشرقی خواتین بخوبی جانتی ہیں °°°
{ فقہی مسئلہ کچھ یوں ہے کہ اگر کسی نے عورت کے بال یوں کاٹ دیئے کہ اب دوبارہ نہ اگ سکیں گے تو کاٹنے والا پوری دیت ادا کرے گا یعنی ایک انسان کی موت کی دیت }

اس واقعے سے معلوم ہوا کہ محبت میں محبوب کا حکم تو دور مرضی بلکہ تصور کی بناء پر بھی اپنی سب سے قیمتی شے قربان کر دی جاتی ہے
یہ مجازی محبت ہے تو حقیقی محبت میں محبوب کی رضا کا لحاظ کس حد تک کیا جائے گا
بس جو حکم آیا جان جائے مگر حکم عدولی نہ ہونی چاہیے
یہاں بیویاں غور کریں کہ شوہر ان کا محبوب ہی ہوتا ہے تو اس کے آگے چوں چراں کیوں ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top