اولیاءِ کرام کا مزاح

المزاح_و_الظرافت 75

سیدی ابو الحسین النوری کبار اولیاء کرام میں سے ہیں
فرماتے ہیں کرامات کے متعلق میرے دل میں شبہ تھا تو میں نے بچوں سے ڈنڈا لیا اور دو کشتیوں کے درمیان کھڑا ہو گیا اور کہا
اے مالک و مولا تیری عزت کی قسم اگر تو نے میرے لیئے تین رطل کی مچھلی نہ نکالی تو میں اپنے آپ کو یہاں ڈبو دوں گا
فرماتے ہیں
میرے لیئے تین رطل کی ایک مچھلی نکل آئی
جب یہ بات سید الطائفہ جنید بغدادی کو معلوم ہوئی تو فرمانے لگے

كَانَ حُكْمُهُ أَنْ يَخْرُجَ لَهُ أَفْعَى فَتَلْدَغَهُ
اس کا حل تو یہ تھا کہ اس کے لیئے سانپ نکلتا جو اسے ڈس لیتا
❗ رسالہ قشیریہ : سیر اعلام النبلاء ❗
یعنی الله رب العزت کی بارگاہ میں ایسا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے
ابو الحسین النوری اور جنید بغدادی اپنے وقت کے اکابر اولیاء کرام میں سے ہیں اور دونوں تصوف و روحانیت کے امام ہیں
مگر اس معاملے میں دونوں کا اختلاف ہوا
اور پھر جنید بغدادی نے ان کی کرامت کو تسلیم کیا مگر مزاح کے انداز میں رد بھی کیا ہے یہ مناسب نہیں تھا
کیونکہ محبوب ہستی سے غلطی ہو جائے تو مسکراتے ہوئے رد کریں منہ چِڑھاتے ہوئے رد نہ کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top