الحب_و_العشق 5
••• محبت سے میری کیا مراد ہوتی ہے •••
اقبال برکہ مصری مصنفہ ہے
جس نے الحب فی صدر الاسلام نام سے یہ کتاب لکھی ہے
{یعنی اسلام کے شروع میں محبت }
جس میں بتایا کہ اسلام کے اول اول میں محبت کا ماحول کیسا ہوا کرتا تھا
عرب کے اشراف و ساداتِ قریش و بنی ہاشم کے جوان باقاعدہ غناء و شاعری کی محافل سجاتے مجالس منعقد کیا کرتے تھے
سیدہ سکینہ بنت امام حسین رضی اللہ عنھا باقاعدہ محفل کا اھتمام کرتی تھیں جس میں غزل و شاعری کا اھتمام کیا جاتا تھا
قطع نظر مصنفہ کون ہے یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے
اس کتاب میں بتایا گیا کہ اسلام کے شروع میں بھی باوجود اسلام کی خالص تعلیمات ہونے کے محبت کا دورہ دورہ تھا اور تذکرے عام تھے
صحراء و بیاباں میں شعراء کے قصیدے گونجتے نجی محافل میں دو محبت کرنے والوں کے چرچے ہوا کرتے تھے
صحابہ کرام کی اولاد میں سے چند کے محبت کے واقعات لکھے کہ نفسِ محبت جرم نہیں ہے
ان اھلِ محبت میں پہلا ذکر مشہور لیلی مجنوں کا ہے پھر ذو الرمہ کا ہے پھر الصمہ کا ہے پھر لیلی اخلیہ کا ذکر کیا
پھر ابو دھبل اور عاتکہ بنت معاویہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا جن کو ابو دھبل نے اشعار لکھ کر بھیجے وہ سن کر روتی تھیں
مزید بھی اھلِ محبت کے ناموں کے ساتھ کے واقعات لکھے ہیں
محبت ہر انسان سے ممکن ہے مگر اس میں وفاء سرداروں کا کام ہے عزت داروں کا کام ہے
محبت سے اخلاق سنورتے طبائع نکھرتے اور سیادت کے گن پیدا ہوتے ہیں
دعویِ محبت ہر انسان کرتا ھے مگر کامیاب باہمت اور سچا انسان ہوتا ھے
محبت کو جرم سمجھنا جرم ہے
اس کا انکار کرنا فطرتِ انسانی کا انکار ہے
طبیعتِ سلیمہ کبھی محبت کی حقیقت کا انکار نہیں کرتی ہے
یاد رکھیں میں جہاں محبت کا ذکر کرتا ہوں میری مراد غیر اختیاری اور اضطراری محبت ہے ہوس و وقت گزاری اور جنسِ مخالف کی محض کشش نہیں مراد ہوتی
جیسے آنکھیں کھلی ہوں تو بندہ چاہ کر بھی ان دیکھا نہیں کر سکتا اسی طرح محبت دل کا کام ہے اس میں عقل کی چاہت کا اعتبار نہیں ہوتا
لہذا ہمیشہ میری مراد اضطراری و غیر اختیاری محبت ہوتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
