روحِ علم کیسے حاصل کریں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 135

امام شعبی فرماتے ہیں

العلم كثير والعمر قصير فخذوا من العلم أرواحه ودعوا ظروفه
علم کثیر ہے اور عمر قلیل ہے تو علم سے اس کی روح لے لو اور ڈھانچہ چھوڑ دو
سیدی عبد الله بن عباس رضی الله عنہ فرماتے ہیں
العلم أكثر من أن يُحصى فخذوا من كل شيء أحسنه
علم شمار سے زیادہ ہے تو ہر شے میں سے بہترین چیز لے لو
❗ الظرف و الظرفاء ❗
متن اہم اسی وجہ سے ہوتے ہیں کہ ان میں روحِ علم ہوتی ہے جبکہ شرح میں تفصیل کے ضمن میں اضافی باتیں ہوتی ہیں
متن مذہبِ معتمد ذکر کرتے ہیں جبکہ شرح میں قیل و قال ہوتی ہے
جو علماء صرف روحِ علم یعنی اصول و ضوابط و قولِ صحیح ذکر کرتے ہیں ان کو پڑھنا استعداد و صلاحیت پیدا کرتا ہے
متن میں مصنف اپنے ذہن میں دلائل و قیل و قال و سوال و جواب و نقد و رد کرتا ہے پھر نچوڑ و صحیح ترین قول لکھ دیتا ہے جبکہ شرح میں مصنف لفظوں میں یہ سب سامنے رکھ دیتا ہے
تو مشکل کام پہلے والا ہے
اسی وجہ سے صدیوں سے حفظِ متون کا علمی رواج ہے

کیونکہ متون نچوڑ ہیں اور روحِ علم ہیں
میں عموماً ایک بات عرض کرتا ہوں
اگر آپ روز ایک دینی کتاب کا صرف ایک صفحہ پڑھیں تو آپ کی زندگی ختم ہو جائے گی کتابیں ختم نہیں ہوں گی
یہ وہ کتابیں ہیں جو چَھپی ہوئی ہیں نیٹ پر اور مکتبوں سے مل جاتی ہیں
تصور کریں آپ روز ایک صفحہ نئی کتاب کا نئے مصنف کا پڑھیں تو سینکڑوں علماء و فقہاء کی عقلوں کا ایک ایک قطرہ آپ کی عقل پر پڑے گا تو دل و دماغ اتنا کھلے گا کہ مزے کو مزہ آ جائے

بس پڑھیں اور آگے بڑھیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top