لطائفِ_علمیہ 258
باپ نہیں تھکتا نہ ہارتا ہے
اسے پتا ہوتا ہے کہ اگر میں تھکا رُکا یا ہار گیا سارا خاندان ہار جائے گا
میرے بچوں کے خواب و خواہشات بکھر جائیں گے
بس اسی سوچ کے تحت اپنی خواہشات مار کے نہ تھکتا نہ رکتا نہ ہارتا ہے
ورنہ وہ بھی روح رکھتا ہے
اچھا کھانا پینا پہننا جانتا ہے مگر خواہشات مار کے جیتا ہے اسی کو باپ کہتے ہیں
✍️ سید مہتاب عالم
