کامیاب_خواتین 28
°°° امت کے عروج کا سبب کیا تھا اور زوال کا سبب کیا ھے °°°
بیوی روحانی, جسمانی, قلبی,ذہنی, سکون کا سبب ہوتی ہے
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا
الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
سن لو خدا کے ذکر میں دلوں کا چین ھے
تو دوسری جگہ فرمایا
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ
{ یعنی سکون حاصل کرو }
تفسیر طبری میں ہے
یعنی تم عورتوں سے سکون پاؤ
ہم سب کی ماں حواء رضی اللہ عنہ ہم سب کے باپ کے دل میں سکون پیدا کرنے کو پیدا کی گئی جب وہ جنت جیسی اعلی جگہ پر تنہائی سے گھبرا گئے تھے
اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو حضور پر گھبراہٹ طاری ہوگئی تو آپ ہماری ماں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے پاس گئے
اس پر علماء نے فرمایا کہ • پریشانی و گھبراہٹ میں اپنی بیوی کے پاس جانا سنت سے ثابت ھے •
علماء نے فرمایا کہ اپنی بیوی سے زیادہ محبت کرنا زیادہ متقی ہونے کی نشانی ہے
اسی وجہ سے اجلہ علماء کرام نے اپنی بیویوں کے حالات و واقعات کتب میں لکھے ہیں
(1) امام یوسف بن عبد الھادی
جو ابن المِب٘رَد نام سے مشہور ہیں حنبلی المذھب اور بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں
انہوں نے اپنی زوجہ بلبل کے نام ایک کتاب لکھی
اور اس کتاب کا نام لقط السنبل فی اخبار بلبل رکھا
(2) حافظ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اپنی زوجہ عائشہ بنت علی کے حالات لکھے
فرمایا
ان کے والد ابو الحسن نام سے معروف ہیں اور یہ میری بڑی خالہ کی بیٹی اور میرے بچوں کی ماں ہیں
میں نے ان کو فاطمہ بنت علی کے طریق سے حدیث سنائی اور ان سے میری اولاد سے حدیث کا سبق لیا
(3) امام حافظ ضیاء مقدسی کی بیوی آسیہ بنت شھاب
امام ذہبی تاریخ الاسلام میں فرماتے ہیں میں نے حافظ ضیاء مقدسی کے ہاتھ سے لکھا دیکھا جو انہوں نے اپنی بیوی کے حالات کے بارے لکھا
آسیہ دیندار بہترین اور کتاب اللہ کی حافظہ تھیں وہ چالیس سال میرے ساتھ رہی اور ہمیشہ میری اطاعت کی وہ مجھے اپنی ذات پر ترجیح دیا کرتی تھیں
ان سے حدیث کی اجازت ایک تعداد نے لی ھے
(4) تقی الدین مقریزی نے اپنی زوجہ سفری کے حالات درر العقود میں لکھے
فرمایا
سفری عمر بن عبد العزیز کی بیٹی ہیں760 ھجری میں پیدا ہوئیں اور 782 ھجری شوال کے مہینے ان سے میں نے نکاح کیا ان سے میری اولاد ہوئی
اور پھر کچھ معاملات کی بناء پر میں نے ان کو طلاق دی پھر رجوع کر لیا
فرماتے ہیں کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہوگیا میں ان کے لیئے کثرت سے استغفار کرتا رہا
ایک دن میں نے خواب میں دیکھا اور پوچھا میرا استغفار کرنا تمہیں پہنچتا ھے!
کہنے لگی میرے سردار ضرور پہنچتا ھے اور میں اس کا بدلہ نہیں چکا سکتی اور پھر رونے لگی,
میں نے کہا صبر کرو ہم عنقریب ایک ساتھ ہوں گے
(5) مراۃ الجنان میں امام یافعی نے بھی اپنی زوجہ زینب بنت قاضی نجم الدین طبری کا ذکر فرمایا اور وہاں پر اپنی زوجہ کی وفات کا قصہ لکھا ھے
اور وہ خواتین جن کے حالات و واقعات علماء خصوصاً امام ذھبی نے سیر اعلام النبلاء میں اور ابن حجر عسقلانی نے الدرر الکامنہ میں ذکر کیئے ان میں مجتھدات ہیں,محدثات ہیں, فقیہات ہیں,قاریات ہیں, شاعرات ہیں, ان کی تعداد بہت زیادہ ہے
انسان پڑھے تو بخوبی واضح ہوجاتا ھے کہ وہ وقت امتِ مسلمہ کے عروج کا وقت کیوں تھا؟
جب دین کے تقریباً تمام علوم میں خواتین برابر تھیں تو عروج تھا
اب دنیا کی طلب میں برابر ہیں تو زوال ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
