عجائباتِ_عالم 57
°°° ایک وقت میں چالیس قسم کے پھل دینے والا درخت °°°
الله الله
یہ درخت ایک وقت میں چالیس مخلتف قسم کے پھل دیتا ہے
جن میں آڑو, خوبانی, بیر اور چیری وغیرہ شامل ہیں
یہ ایک ادنیٰ سے انسان کی کوشش ہے
اسے دیکھ کر اللہ رب العالمین کی بنائی ہوئی جنت کی یاد آگئی
حدیثِ مبارکہ میں ہے
ما في الجنَّةِ شجرةٌ إلَّا ساقُها مِن ذهَبٍ
جنت میں ہر درخت کا تنا سونے کا ہوگا
( ابن حبان)
یعنی لکڑی کا تنا نہ ہوگا بلکہ سونے کا ہوگا
اور دوسری روایت میں
وفُرُوعُهَا مِنْ زَبَرْجَدٍ وَلُؤْلُؤٍ فَتَهُبُّ الرِّيَاحُ فَتَصْطَفِقُ فَمَا سَمِعَ السَّامِعُونَ بِصَوْتِ شَيْءٍ قَطُّ أَلَذَّ مِنْهُ
ان درختوں کی شاخیں موتیوں اور زبرجد کی ہوں گی جب ہوا چلے گی تو یہ آپس میں ٹکرائیں گے ان سے پیدا ہونے والی آواز اتنی لذید ہوگی کہ کسی سننے والے نے ایسی نہ سنی ہوگی
(ترمذی)
ایک روایت میں ہے
أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَلْيَنُ مِنْ الزُّبْدِ
وہ پھل دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے
(التذکرۃ للقرطبی)
بعض روایات میں آیا کہ
ہر پھل میں ستر ذائقے ہوں گے اور ہر بار کھانے پر کیا ذائقہ نصیب ہوگا
علماء نے فرمایا
جسے لذت کہتے ہیں وہ دنیا میں نہیں ہے بلکہ جنت میں ہی ہوگی
کیونکہ دنیا میں کھانا پینا بھوک پیاس مٹانے کے لیئے ہوتا ہے اور جب بھوک پیاس مٹ جائے تو دنیا کا لذید ترین کھانا بھی کھانے کو دل نہیں کرتا اگر بندہ مزید کھائے تو الٹی آ جائے
تو معلوم ہوا یہ حاجت ہے
جبکہ جنت میں محتاجی نہیں ہے
کیونکہ جنت میں بھوک پیاس نہیں ہے نہ مزید کھانے پر قے آئے گی
بلکہ حقیقی معنی میں لذت ہوگی کہ بھوک پیاس کے بغیر لطف اٹھانا ہی اصل لذت ہے
لہذا اصل لذت و حقیقی مزے کی طلب کریں عارضی لطف و مزے کی پرواہ نہ کریں
صوفیاء کرام نے فرمایا اگر دنیا میں آخرت کی لذت ہے تو وہ معرفتِ الٰہی ہے
اور معرفتِ الٰہی ہر مومن نے پائی ہے
خواہ متقی ہو یا گناہ گار ہو مگر جس کی معرفت زیادہ ہے وہ اس لذت سے آشنا ہے کہ اس کا جسم بھی کاٹ دیا جائے تو محسوس نہ کرے
اللہ رب العزت اپنی معرفت کا کثیر حصہ عطاء فرمائے
رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا صلی اللہ علیہ وسلم
سیدمہتاب_عالم

