عجائباتِ_عالم 48
پہلی نظر میں وہ چھوٹی گڑیا کے سروں کی طرح لگتے ہی لیکن حقیقت میں وہ انسانوں کے حقیقی سر ہیں
یہ ایک قبیلہ جو دریائے ایمیزون کے کنارے آباد ہے دنیا کے سفاک ترین قبیلوں میں سے ایک قبیلہ “شاور” کہلاتا ہے
یہ صرف جادو پر گزارہ کرتے ہیں اور جادو ہی ان کی بنیاد ہے اور ذریعہ معاش ہے
ہر قبیلے کی طرح شاور کے بھی رسم و رواج ہیں جو انہیں دوسرے قبائل سے ممتاز کرتے ہیں
لیکن اس قبیلے کے رسم و رواج بہت خطر ناک ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا
جب ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا سر کاٹ کر سزا دیتے ہیں
مگر پھر وہ ڈرتے ہیں کہ مقتول کی روح واپس آکر بدلہ لے گی تو اس لیے وہ سروں کو کاٹنے کے بعد سر اصل سائز کے چوتھائی برابر کر دیتے تھے
سروں کو چھوٹا کرنے کے لیئے اس قبیلے کے باشندوں نے خاص طریقے ایجاد کیئے ہیں
جس سے سر کو مطلوبہ سائز تک پہنچنے تک کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے
جہاں مقتول کا سر پیچھے سے طولانی طور پر کاٹ دیا جاتا ہے
اور اس کی کھوپڑی آنکھیں اور زبان نکال دی جاتی ہے
اور بالوں کو محفوظ رکھتے ہوئے سر کو تمام اندرونی مواد سے مکمل طور پر خالی کرنے کے بعد اسے ابلتے ہوئے پانی کے ایک برتن میں بالوں کو باہر رکھتے ہوئے اس میں سر بھگو دیا جاتا ہے
اس کے بعد سر کی جلد کو الٹ کر دھوپ میں خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے
یہ عمل مسلسل چھ دن تک جاری رہتا ہے جس کے دوران جلد کے تمام خلیے سکڑ جاتے ہیں
اس کے بعد سر کو مٹی اور پتھروں سے بھر کر پیچھے سے سی دیا جاتا ہے
پھر آنکھوں اور منہ کو سی دیا جاتا ہے تاکہ روح انتقام کے لیے واپس نہ آئے
اس طرح انسانی سر کا سائز تقریباً ایک مالٹے کے برابر ہو جاتا ہے
ایمزون جنگل دنیا کے عجیب و غریب رازوں بھرا جنگل ہے
یہاں وحشی قبائل جو انسانوں کو گوشت کھاتے وہ بھی آباد ہیں
اور جادوگر قبائل بھی آباد ہیں
اور مذکور قبیلہ تو بہت عجیب ہے
آپ ایمزون کا نام سن کر آئندہ شاور قبیلے کو ضرور یاد رکھیئے گا
اور اپنے مسلمان ہونے پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیجیے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

