عجائباتِ_عالم 47
آپ یقین نہیں کریں گے
جنگل کے اس بادشاہ کو جنگل کی چھ رانیوں نے نوچ نوچ کر مار ڈالا
اور یہ واقعہ گھانا کے ایک پارک میں پیش آیا
اس کی مختلف توجیہات کی گئیں تھیں
میں یہاں دو پیش کرتا ہوں
پہلی کہ شیر کی یہ چھ ملکائیں تھیں اور اب بادشاہ سلامت ساتویں کے چکر میں جا رہے تھے تو چھ نے مل کر بادشاہ کو مار دیا
دوسری وجہ جو واضح ہے وہ یہ کہ وہاں کی انتظامیہ نے شیر کی نس بندی کر دی تھی
جس کی وجہ سے جنگل کی ملکائیں بادشاہ سے مطمئن نہیں تھیں
اور یہ چھ شیرنیاں اس کی بیویاں تھی اور ملکہ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ بادشاہ کے ہوتے ہوئے کسی اور کی طرف منہ اٹھا کر دیکھے
لہذا انہوں نے اس نس بندی کیئے شیر کو مار دیا اور ایک نیا بادشاہ مقرر کر لیا
پہلی صورت بھی روشن خیال طبقے اور فرنگی نظام کے منہ پر تھپڑ ہے کہ جنگل میں بھی یہ قانون ہے کہ غیر کی طرف نگاہ اٹھانا بہت بڑا جرم ہے
وہ ملکہ ہی ہوتی ہے جو اپنے شوہر کو کسی غیر کی طرف نگاہ نہ اٹھانے دے
یعنی مرد پر غیرت کھانا ملکہ کی شان اور عورت پر غیرت کھانا بادشاہ کی شان ہے
جو آج کل مخلوط پارٹیوں ڈانس کلب یونیورسٹی کی مخلوط تعلیم میں ہوتا ہے اس پر جو خواتین مطمئن ہیں وہ شیرنی نہیں بلکہ سور کی مادہ کی مثل ہے
کیونکہ جنگل کے ماہرین کہتے ہیں سور واحد جانور ہے جو دیوث یعنی بے غیرت ہوتا ہے
اپنی ماں بہن پر ذرہ غیرت نہیں کرتا
یہی وجہ ہے سور کھانے والی قوم بھی بے غیرت ہوتی ہے
غیرت محبت کی روح ہوتی ہے جب غیرت ختم ہو جائے تو محبت فناء ہو جاتی ہے
دوسری صورت تو واضح ٹرانس جینڈر جیسی غلاظت اور فطرت سے ہٹنے کی سازش کو بے نقاب کر رہی ہے کہ اگر معاشرے سے مردوں کی جنس بدلی جائے گی تو قتل و غارت کا بازار گرم ہو جائے گا
بہر صورت اس واقعے سے سبق سیکھنا چاہئے
اسی طرح ایک اور واقعہ سفاری پاک میں بھی پیش آیا تھا اور دونوں واقعات کی ویڈوز موجود ہیں
انسانوں کے اپنے بنائے اصول حیوانوں کے اصولوں سے برے ہیں
فطرت کے اصول ہی بہترین معاشرے کی ضمانت ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

