عجائباتِ_عالم 42
عقل کی پیوندکاری کیا ہے ؟
حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
الأرواح جنود مجندة ما تعارف منها ائتلف وما تنافر منها اختلف
روحیں لشکر کی طرح ایک جگہ جمع تھیں جس کی پہچان ہوئی ان کو باہم الفت ہوگئی اور جو انجان رہے وہاں مختلف ہوگئے
{ بخاری و مسلم }
حدیث پاک کی ظاہری الفاظ یہی بتا رہے ہیں کہ روحوں کی باہم محبت بغیر کسی سبب کے ہوتی ہے
ایک جیسی شکل و صورت و عادات و اطوار کے بغیر الفت روحوں کی باہم پہچان کی وجہ سے ہے
سیاہ سفید سے محبت کر بیٹھتا ہے امیر فقیر سے فقیر امیر سے کر بیٹھتا ہے آقا غلام سے غلام آقا سے محبت کر بیٹھتا ہے کیونکہ وہاں عالَمِ ارواح میں پہچان یہاں دنیا میں رنگ لاتی ہے
یقیناً آپ نے عالَمِ ارواح میں مجھے دیکھنا سنا ہوگا تبھی یہاں مجھے پڑھ رہے ہیں
اب الگ بات ہے وہاں مثبت دیکھنا تھا تو یہاں بھی مثبت سوچ ہوگی
وہاں منفی تھا تو یہاں بھی منفی ہوگی
یہ بھی حقیقت ہے کہ روح اپنی روح کی مجلس میں بیٹھتی ہے
سیدی احمد بن عطاء فرماتے ہیں
مجالسة الأضداد ذوبان الروح ومجالسة الأشكال تلقيح للعقول وليس كل من يصلح للمجالسة يصلح للمؤانسة وليس كل من يصلح للمؤانسة يؤمن على الأسرار ولا يؤمن على الأسرار إلا الأمناء فقط
اپنی عادت کے متضاد طبعیت رکھنے والے کی مجلس میں بیٹھنا روح کا پگھلنا ہے اور ہم عادت کی مجلس میں بیٹھنا عقلوں میں پیوندکاری ہے
اور ہر ہمنشیی کا اھل انسیت کا اھل نہیں ہوتا اور ہر مانوسیت کا اھل راز داری کا اھل ہوتا ہے رازوں پر صرف امین لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے
{ حلية الأولياء }
کتنے گُر کی باتیں ہیں
اول تو صحبت ہر ایک کی نہیں اختیار کی جاتی بلکہ مشابہت کی وجہ سے صحبت اختیار کی جاتی ہے
اور پھر ہر صحبت کا قابل محبت کا قابل نہیں ہوتا
اور پھر ہر محبت کا قابل راز داری کے قابل نہیں ہوتا
ہم عادت ہم روح ہم طبعیت کی صحبت پیوندکاری کا کام کرتی ہے یعنی عقل دوسری عقل میں پھول بوٹے اُگاتی ہے ایک وقت آتا ہے کہ دوسری عقل پہلی عقل جیسی ہو جاتی ہے
آپ جس مصنف و محرر کو زیادہ پڑھتے ہیں اس کی عقل کی پیوندکاری آپ کی عقل میں ہو جاتی ہے
راولپنڈی میں درجہ دورہ حدیث شریف میں سخت سردیوں کی رات دو اڑھائی تک فتاویٰ رضویہ پڑھتا تھا
اس کا ایسا اثر ہوا کہ صبح استاذ عاصم یاسین صاحب ترمذی کی تقریر کرتے تو میں ان کے سادہ الفاظ کو فتاویٰ رضویہ کی طرز پر ادق عبارت بنا کر لکھتا تھا
مصنف کا بہت اثر ہوتا ہے اگر آپ عقل کھول کر مطالعہ کریں تو صدیوں پہلے گزرے مصنف کی روح کا اثر آپ پر ضرور پڑے گا اس کی عقل کی پیوندکاری آپ کی عقل میں ضرور ہوگی
سیدی عمر بن عبد العزیز نے فرمایا
إنّ في المحادثة تلقيحا للعقول وترويحا للقلب وتسريحا للهمّ وتنقيحا للأدب
باہم گفتگو میں عقلوں کی پیوندکاری , دل کی راحت , غم کی تسکین اور ادب کی تنقیح ہے
{ الامتاع و الموانسة }
آپ مجھے پڑھ رہے ہیں تو میں آپ کی عقل میں پیوندکاری کر رہا ہوں وہاں عالمِ ارواح میں بھی کی اور یہاں بھی کر رہا ہوں اور کوئی نہ کوئی وجہِ مشابہت ہم میں ضرور ہے
حساد و عدو خطاب نہیں ہے
✍️ #سیدمہتابعالم
