عجائباتِ_عالم 35
°°° ایسے وقت انسان کیا کرے °°°
کبھی انسان اچانک غمزدہ ہو جاتا ہے
کبھی اچانک ہشاش بشاش ہو جاتا ہے
غمزدہ ہونے کی وجوہات بہت ہیں
صوفیاء کرام میں اصطلاح میں اسے حالتِ قبض کے سے تعبیر کرتے ہیں یعنی ایسی کیفیت جس میں انسان کا دل تنگ ہوجاتا سینہ گُھٹ جاتا ہے دماغ پریشان ہوجاتا ہے
ان ظاہری و باطنی وجوہات میں سے ایک ہو سکتی ہے
{1} کبھی اللہ ربّ العزت کی طرف سے آزمائش ہوئی ہے
ایسی صورت میں یا باسطُ کثرت سے پڑھیں
{2} کبھی کسی پیارے کو دکھ درد پہنچتا ہے جس کی مقناطیسی قوت آپ تک پہنچ کر آپ کو پریشان کر دیتی ہے
[ مقناطیسی قوت پر میری الگ سے تحریر ہے ]
{3} کبھی ایسی خوراک کھائی ہوتی ہے جو ہضم ہوتے وقت بخارات بناتی ہے جو آپ کے دل کو متاثر کرتی ہے
اسی وجہ سے ڈراؤنے اور بے سر و پا خواب بھی آتے ہیں
{4} کبھی آپ کسی پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں اس کی آہ و زاری آسمان کے دروازے کو کھٹکھٹاتی ہے
{5} کبھی آپ کی روح گناہوں سے اکتا جاتی ہے جس کی وجہ سے بے زاری محسوس ہوتی ہے مگر نفس آپ کو ادھر توجہ نہیں دینے دیتا
اب سوال ہوگا ایسی کیفیت میں کیا کرنا چاہیئے؟
تو جواب ہے
- اس وقت صدقہ دیں اگرچہ پچاس سو روپے ہوں اس سے خوشی ملتی ہے
- دروک پاک پڑھیں اس سے سکون ملتا ہے
- استغفار کریں کہ گناہ دھلتے ہیں رب راضی ہوتا ہے
- کسی کی مدد کریں کہ اس سے راحت و چین ملتا ہے
- کبھی تو اتنا دل رنجیدہ ہوتا ہے کہ رونے کو دل کرتا بلکہ آنسو پلکوں کو نم کر ہی دیتے ہیں تو ایسے وقت دعاء کریں کہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے
- کبھی انسان اچانک خوش ہو جاتا ہے
ہشاش بشاش ہو جاتا ہے اس کیفیت کو صوفیاء بسط کے نام سے یاد کرتے ہیں
اس کی وجوہات میں سے
{1} کبھی نیکی قبول ہوتی ہے جس کی وجہ بندے پر سکینہ اترتا ہے
{2} کبھی کسی کی دعاء آپ کے حق میں قبول ہوتی ہے یا کوئی دعاء کر رہا ہوتا
{3} کبھی آپ کا ذکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہوتا ہے
{4} کبھی کسی اللہ والے کی نگاہ آپ پر پڑتی ہے جس کا اثر خوشی میں ظاہر ہوتا ہے
{5} کبھی ایسا منظر دیکھتے ہیں جو دل و دماغ کو تازہ کر دیتا ہے
{6} کبھی آپ کے ماں باپ کی دعاء کا اثر ہوتا ہے
جب یہ کیفیت ہو تو دعاء کریں اور شکر کی کثرت کریں اس کی برکت سے اللہ ربّ العزت اس خوشی کی کیفیت کو طویل کر دے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
