حوادثِ_آخری_الزماں 5
°°° انسان خود قیامت کا سببِ کبیر ہے °°°
مہنگائی اتنی کر دو کہ علماء صرف دو وقت کی روٹی کے چکر میں دین کی خدمت ہی بھول جائیں
مہنگائی اتنی کر دو کہ علماء زندگی کی ضروریات پورا کرنے میں ہی دن رات ایک کر دیں تاکہ وہ دین کی خدمت کے لیئے وقت نہ نکال سکیں
پاکستان کی ہر حکومت اسی یہودی ایجنڈے پر عمل کرتی آئی ہے
علماء پر زمین تنگ کر دو
علماء عرصہِ حیات تنگ کر دو
ہر عالم پر کڑی نظر رکھو
یہ یہودی ایجنڈہ ہے
علماء کی تعداد کم ہونا زمین میں بے برکتی کا سبب ہے •
علماء کی تعداد کم ہونا قربِ قیامت کی نشانی ہے
اللہ رب العزت نے نظام بنایا ہے تو قیامت آنے کا ظاہری و باطنی سبب انسان خود ہے
حقیقی سبب امر و تقدیرِ الٰہی ہے
ظاہری سبب
ماحولیاتی تبدیلی ہے باطنی سبب
آلِ رسول و علماء کرام و ذکر اللہ کرنے والوں کا کم ہوتے جانا ہے جیساکہ احادیث مبارکہ میں آیا ہے
آلِ رسول زمین والوں کے لیئے امن ہیں
علماء کا کم ہونا قیامت کی نشانی ہے
قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ایک بھی فرد زمین پر اللہ اللہ کرنے والا ہوگا
ان میں علماء کرام کا مقام بلند ہے جو عوام الناس کی رہنمائی کرتے ہیں
تو ان علماء پر گھیرہ تنگ کرنا عذابِ الٰہی کو دعوت دینا ہے
•ہماری حکومتوں نے بھی فرنگیوں کی طرح علماء کو مبغوض جانا اور ان کو سہولیات تو دور بلکہ ان کے حقوق تک چھین رکھے ہیں•
فرنگیوں نے علماءِ کرام کو توپوں کے آگے باندھ کر توپیں چلا دی تھیں
حقیقت تو یہ ہے ملک میں ہر لحاظ سے سب سے زیادہ عزت کے حق دار ساداتِ کرام و علماءِ عظام ہیں
مگر انہی کو ملک پر بوجھ اور ملک کا کمزور طبقہ بنا دیا گیا ہے
انسان خود اپنے کرتوتوں سے قیامت آنے کا سببِ کبیر و سببِ ظاہری ہے کہ جو اشیاء اس کی بقاء کی ضمانت ہیں ان کو بوجھ سمجھتا ہے
حدیث مبارکہ میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
حَتَّى تَعودَ أرضُ العَرَبِ مُروجًا وأنهارًا
قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک عرب زمین سر سبز اور نہروں والی نہ ہو جائے
❗ مسلم شریف❗
عربی صحراؤں, بے آب و گیاہ میدانوں کا سر سبز باغات میں بدلنا اور نہروں کے جال بچھ جانا خودبخود نہیں ہوگا بلکہ انسان سہولت و ٹیکنالوجی کے نام پر خود یہ سب کریں گے
جیسا کہ آپ ویڈیو میں دیکھ رہے ہیں کہ سوڈان سے درخت جڑوں سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ نکال کر دبئی میں لائے جا رہے ہیں
ان درختوں سے صحراء کو باغ بنایا جائے گا
اور سنا ہے دبئی سے انڈیا تک سمندر کے نیچے سے سرنگ بنانے کا منصوبہ ہے
جہاں سے ایک تو سفر نہایت کم ہو جائے گا دوسرا میٹھا پانی کثرت سے دبئی کے صحراؤں میں لایا جائے گا
اور نہریں بنا کر صحراؤں کو سر سبز کیا جائے گا
اپنی سہولت کے چکر میں قیامت کے سبب ظاہری بن رہے ہیں
قرآن کریم میں ہے
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ
خشکی و تری میں جو فساد ظاہر ہوا وہ لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے
قیامت کے قریب تباہی و بربادی سے بڑا فساد کیا ہوگا؟
انسان اپنے ہاتھوں سے پانیوں اور زمینوں کو تباہ کر رہا ہے کہ بظاہر آبادیاں بسا رہا ہے حقیقتاً بربادی کر رہا ہے!
سچ بات تو یہ ہے کہ اس ملک کو صرف ایک مولوی ہی سیدھا کرسکتا ہے
اب دعاء کریں اللہ رب العزت کوئی مولوی حاکم دے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
