اسلامی_سائنس 21
امام علامہ قاضی ابو الحسن علی بن جعفر طرابلسی (متوفی 815 ھجری) نہ صرف قاضی و فقیہ تھے بلکہ موجد بھی تھے
انہوں نے آج سے تقریباً چھ سو سال پہلے مچھر مار مشین تیار کی تھی
جسے قندیل البعوض کہتے تھے
یہ ایک قسم کا فانوس تھا جس پر خاص قسم مواد لیپ لگایا جاتا تھا
اس مواد کی خوشبو مچھروں مکھیوں کے لیئے انتہائی پرکشش ہوتی تھی
مکھیاں و مچھر اس کے قریب جاتے تو اس کے ساتھ چیک جاتے تھے اور مر جاتے تھے
اور یوں بغیر بودار دھویں کے انسان کھلی ہوا میں بھی آرام سے سو سکتا تھا
آج کل جلیبی اور میٹ یا کسی بھی قسم کی دوا کمروں میں کار آمد ہے مگر قاضی ابو الحسن نے ایسی قندیل بنائی تھی جو کھلے میدان میں بھی مچھروں,مکھیوں سے بچاتی تھی
ہم مسلمان سائنسدانوں کی ایجادات دیکھیں تو واضح نظر آتا ھے کہ وہ ایسی ایجاد کرتے تھے جو مضرِ صحت نہ ہو
مسلمان سائنسدانوں کی ایجادات میں ایسا ایندھن بھی ملتا ہے جو دھواں نہیں چھوڑتا تھا
جبکہ غیر مسلموں کی ایجادات میں بے شمار ایسی ہیں جو انسانوں, جانوروں,معاشرے,سمندر و فضاء کے لیئے نقصان دہ ہیں
اگر مسلمانوں نے کسی نقصان دہ شے کا راز پا بھی لیا تو اس کو ایجاد کی صورت میں پیش نہیں کیا جیساکہ ایٹم کی تقسیم اندلس کے مسلمان سائنسدانوں کی دریافت ہے, مگر شاید وہ اس کا نقصان جانتے تھے اسی لیئے کتابوں میں صرف اشاروں میں لکھا اس کے استعمال سے مکمل گریز کیا تھا
ضرورت اسلامی سائنس کو سبقاً پڑھنے کی ہے شاید سنہری دور واپس آجائے یا کم از کم احساس کمتری باقی نہ رہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

