چشمِ تصور

یادِ_حضور 14

جب غم آئے تو چشمِ تصور میں دیکھا کریں کہ
حضور جانِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو مسکرا کے دیکھ رہے ہیں
اور یہ شعر پڑھیں
لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف
خرمنِ عصیاں پہ اب بجلی گراتے جائیں گے
تصور جمائیں کہ حضور مجھ سے میری ماں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں
پھر یہ شعر پڑھیں
تم کو تو غلاموں ہے کچھ ایسی محبت
ہے ترکِ ادب ورنہ کہیں ہم فدا ہو

پھر تسلی پائیں اور یہ شعر پڑھیں

قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل, ہزار کج
یہ ساری گھتی اِک تری سیدھی نظر کی ہے

اللھم صل و سلم و بارک علیٰ سیدنا و مولانا محمد کما تحب و ترضی لہ

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top