المزاح_و_الظرافت 10
ایک اصولِ فقہ کے ماہر عالم کی بیوی نے شوہر کو کہا
لو خیروک بینی و بین فلانة فمن تختار
اگر آپ کو اختیار ملے کہ مجھے چنیں یا فلاں عورت کو تو آپ کسے اختیار کریں گے
اصولی صاحب ہر وقت اصول پڑھتے پڑھاتے تھے اس وقت بھی اصول کی کتب کھول کر بیٹھے تھے تو بیگم صاحبہ کو اصولی جواب دیا
کہنے لگے
لا ینظر الی الترجیح الا اذا تعذر الجمع
کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح تب دی جاتی ہے جب دونوں کو جمع کرنا مشکل ہو
یعنی جب تم دونوں کو جمع کرنا ممکن ہے تو صرف ایک کو کیوں اختیار کیا جائے
تجربہ ہے کہ کوئی طالبِ علم یا عالم کسی مضمون کو دن رات پڑھتا رہے تو پھر اسی مضمون سے روز مرہ کے مسائل بھی آسانی سے حل کر لیتا ہے
جیساکہ بعض اسلاف کے بارے آتا ہے کہ وہ بیس یا تیس سال سے عوامی لہجے میں بات نہیں کرتے جب بھی ان سے روز مرہ کی اشیاء کے بارے سوال ہوتا یا ان کو کسی شے کی حاجت ہوتی تو قران کریم کی آیت پڑھ کر اپنا مدعی سمجھا دیتے تھے
اسی طرح امام محمد نے اپنے خالہ زاد بھائی امام کسائی جو کہ نحو کے امام ہیں کو فرمایا
آپ فقہ کیوں نہیں حاصل کرتے نحو کے پیچھے پڑے رہتے ہیں
امام کسائی نے فرمایا
جو نحو میں ماہر ہو جاتا ہے اس پر سارے علوم کھل جاتے ہیں
امام محمد نے فرمایا ایسی بات ہے تو مجھے نحو سے ایک فقہی مسئلہ حل کر دیں
جس آدمی پر سجدہ سہو ہو وہ سجدہ سہو میں بھول جائے تو کیا وہ دوبارہ سجدہ سہو کرے گا ؟
امام کسائی نے کچھ لمحات سوچا اور کہنے لگے
نہیں کرے
امام محمد نے فرمایا نحو کے کس قاعدے سے آپ نے اس مسئلے کا جواب اخذ کیا ہے
امام کسائی نے فرمایا نحو کا اصول ہے
لَا يُصَغَّرُ الْمُصَغَّرُ
اسمِ تصغیر کی مزید تصغیر نہیں بنائی جاتی
اس اصول سے اخذ کیا کہ جس پر سجدہ سہو ہو اس پر دوبارہ واجب نہیں ہوگا
امام محمد حیران رہ گئے
❗البدائع الصنائع ❗
مثلا لفظِ جُندی {سپاہی} کی تصغیر جُنیدٌ {چھوٹا سپاہی} ہے
اب اس جنید کی مزید تصغیر نہیں ہو سکتی
اسی طرح
سجدہ سہو نماز کی تمامیت ہے اور اور تمام کی تمامیت مزید نہیں ہو سکتی
°°° اور یہ بڑی واضح حقیقت ہے جس کے تجربات سے میں خود گزرا ہوں کہ عربی زبان ذہن کھول دیتی ہے °°°
عربی زبان پر مہارت سے قوتِ استدلال و استظہار پیدا ہوتی ہے
اس سے وسعتِ ذہنی و علوم کی پختگی پیدا ہوتی ہے
الغرض روز مرہ کا مسئلہ ہو یا بیگم صاحبہ کو قائل کرنا ہو تو فنون پر مہارت ضروری ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
