ذاتی_مطالعہ 155
امام الماوردی نے فرمایا
وَكَانَتْ حُكَمَاءُ الْمُتَقَدِّمِينَ يَرَوْنَ أَنَّ أَنْجَبَ الْأَوْلَادِ خَلْقًا وَخُلُقًا مَنْ كَانَتْ سِنُّ أُمِّهِ بَيْنَ الْعِشْرِينَ وَالثَّلَاثِينَ وَسِنُّ أَبِيهِ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ وَالْخَمْسِينَ
پہلے زمانے کے دانشمند کہتے تھے کہ صورت و اخلاق کے لحاظ سے وہ بچے بہترین ہوتے ہیں جن کی ماں بیس سے تیس سال اور باپ تیس سے پچاس سال کے ہوتے ہیں
❗ ادب الدنیا و الدین ❗
میں نے غور کیا تو منکشف ہوا کہ وہ بچے صورت میں ماں پر جاتے ہیں اس وجہ سے وہ شکل و صورت کے لحاظ سے بہترین ہوتے ہیں اور عقل میں باپ پر جاتے ہیں تبھی وہ اخلاق کے لحاظ سے بہترین ہوتے ہیں
کیونکہ بیس سے تیس سال کی ماں جوان ہوتی ہے تو اس کی خِلقت اور تیس سے چالیس سال کا باپ پختہ عقل ہوتا ہے تو اس کا خُلُق بچوں کو شکلاً عقلاً بہترین بناتا ہے
بچوں کی شادیاں کرتے وقت جوڑ ضرور ملایا کریں
جانوروں میں بھی اصیل سے دخیل مل جائے تو بچہ دوغلا ہوتا ہے انسانوں میں جوڑ نہ ملیں تو توڑ پھوڑ رہتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
