بے محل بات کرنا حماقت ہے

اسلامی_طرزِتربیت 226

ابو العیناء سے مروی ہے کہ العطوی نام کا شاعر ایک شخص کے پاس پہنچا جو حالتِ نزع میں تھا
العطوی اسے کہنے لگا
پڑھو
لا الہَ الا الله
ہاں اگر چاہو تو
لا الھاً الا الله
بھی کہ سکتے ہو
پہلی طرح پڑھنا سیبویہ کو پسند ہے اور نحاۃِ بصرہ کا یہی مذہب ہے
جبکہ دوسری طرح پڑھنا بھی جائز ہے
❗ اخبار الحمقی ❗
شاعر کے اس واقعے کو ابن الجوزی نے کتاب الحمقی میں لکھا ہے گویا یہ اس کی حماقت تھی کہ ایک بندہ مر رہا ہے اور یہ اسے نحویوں کا اختلاف بتا رہا ہے
غیرِ محل میں بات کرنا حماقت ہے
ہر جگہ شعلہ بیانیاں اور قلم کی جولانیاں نہیں دکھائی جاتیں
بعض لوگ کسی نقصان میں اپنی مہارتیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں
اگلا بندہ ہکا بکا کھڑا ہوتا ہے کہ میں خون روؤں یا جگر پیٹوں یا اسے ہی پیٹ دوں جو میرے نقصان پر فنکاری کر رہا ہے
جہاں آپ کی جگہ نہیں وہاں نہ منہ کھولیں نہ بیٹھیں
جو آپ کا میدان نہیں وہاں نہ جائیں اگر جائیں تو زبان قابو رکھیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top