السلام علیکم کا انوکھا معنیٰ

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 117

°°° خشک علم اور تر علم کونسا ھے °°°

علم الاوراق اور علم الاذواق میں بہت فرق ہے
علم الاوراق وہ جو محض کتابوں سے حاصل کیا جائے یا تصوف سے خالی اساتذہ سے حاصل کیا جائے
یہ ایسے جیسے کاغذ کے پھول کہ جن کا اصل جیسا رنگ و نور نہیں ہوتا ہے خوشبو تو بالکل نہیں ہوتی

علم الاذواق وہ جو صاحبِ تصوف استاذ سے حاصل کیا جائے یہ علم تازہ نکھرے گلاب کی طرح ہوتا ہے

اسے ہم خشک علم اور تر علم بھی کہ سکتے ہیں

جو نور و روحانیت آپ کو صوفی علماء کی کتابوں میں نظر آتے ہیں وہ غیر صوفی بڑے سے بڑے عالم کی کتابوں میں نظر نہیں آتی

علماءِ ظاہر کسی آیت یا حدیث کی شرح کریں اسی آیت کا حدیث کی شرح آپ کسی صوفی عالم کی پڑھیں آپ کو ثریا اور ثریٰ کا فرق نظر آئے گا

دو مثالیں پیش کرتا ہوں

{1} امام ابن جوزی کی کتاب تلبیس ابلیس انتہائی روکھی کتاب ہے کیونکہ انہوں نے کسی صوفی کی صحبت اختیار کرنے سے پہلے لکھی تھی
مگر جب کسی صوفی کی صحبت ملی تو عیون الحکایات جیسی پرنور کتاب لکھ ڈالی

ایسے ہی امام شعرانی کی کتب میں جو معنویت و روحانیت و نورانیت ہے وہ ان کے کسی ہم عصر کی کتابوں میں نہیں ہے

{2} دوسری مثال
مشہور حدیث پاک ہے

المؤمن مراۃ المؤمن
مومن مومن کا آئینہ ہوتا ہے
اس حدیثِ مبارکہ کا عام فہم معنی ہی مراد لیا جاتا ہے
مگر اسی حدیث کی شرح جنابِ غوثِ پاک نے یوں فرمائی کہ اس حدیث میں اول مومن سے مراد عارف کامل کا دل ہے اور دوسری جگہ مومن سے مراد رب العزت کی ذات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام مومن ہے

تو حدیث کا معنی یہ ہوا کہ بندہِ مومن کا دل اللہ ربّ العزت کے جلوے کا آئنیہ ہے
یہاں رب العزت کے جلوے چمکتے ہیں تجلیات الٰہی کی کثرت ہوتی ہے

مفتی احمد یار خاں نعیمی نے ایک جگہ فرمایا
السلام علیکم کا عمومی معنی
تو یہ ہے کہ تم پر سلامتی ہو مگر اللہ والے جب بولتے ہیں تو ان کے نذدیک ایک معنی یہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت تمہارا نگہبان ہے اور تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے لہذا گناہ سے بچتے رہو
کیونکہ السلام اللہ ربّ العزت کا نام بھی ہے تو السلام علیکم کا معنی ہوا سلام تبارک وتعالی تمہارا نگہبان اور تمہارے معاملات دیکھ رہا ہے

صوفیاء کی کتب پڑھیں علم میں نکھار شخصیت میں وقار روح میں مہکار اور گفتار و کردار میں شعور و اسلامی شعار آئے گا
اگر آپ علم کی خشکی سے بچنا چاہتے ہیں تو صوفیاء کرام کی کتب پڑھیں اور عقلی علوم مثلاً منطق و فلسفہ و بلاغت وغیرہ کو بقدر ضرورت وقت دیں ان میں انہماک نہ اختیار کریں کیونکہ ایسے عقلی علوم ظاہری عقل کے دریچے کھولتے ہیں مگر روح پر پردے ڈال دیتے ہیں
اس کی وجہ یہ ہے کہ عقلی علوم کے ماہر عموماً تکبر میں پڑ جاتے ہیں یہ لوگ صوفیاء کرام کی بارگاہ میں جائیں یا کسی عالم سے بحث کریں تو صغروں کبروں کی زبان بولتے ہیں اور اپنے تئیں لا جواب کر کے متکبر ہو جاتے ہیں
روح سے پردے قران و حدیث پڑھنے اور کتبِ صوفیاء و صحبتِ صوفیاء سے ہٹتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top