اگر آپ سَچے سُچے طالبِ علمِ دین ہیں تو

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 105

°°° دل کی باتیں علم والوں کے ساتھ °°°

سفیان ثوری سے منقول ہے

ما ازداد عبد علما فازداد في الدنيا رغبة إلا ازداد من الله بعدا
جس بندے کے علم بڑھنے سے دنیا میں رغبت بڑھے وہ اللہ سے دور ہو جاتا ہے
❗شرح المھذب للنووی ❗
مراد دینی علم ہے
دنیاوی علم مراد نہیں ہے
یعنی دینی علوم سے آخرت کی طلب نہ بڑھے رضائے الٰہی مقصد نہ ہو تو یہ وبالِ جان ہے
امام زھری کا فرمان ہے
ما عبد الله بشيء أفضل من العلم
علم سے افضل کسی بھی شے سے الله کی عبادت نہیں کی گئی
❗حلیۃ الاولیاء ❗
یعنی الله وحدہ لاشریک کی عبادت مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے مگر سب سے افضل طریقہ علمِ دین ہے
امام شافعی کا فرمان ہے
الله کی رضا کے لیئے علم حاصل کرنے سے افضل کوئی شے نہیں ہے

علمِ دین، دین کے لیئے
آخرت کے لیئے
رضائے الٰہی کے لیئے حاصل کیا جائے تو وہ جہنم سے نجات کا سبب جنت میں داخلے کی ضمانت ہے
اور اگر علمِ دین دنیا کے لیئے مقام پانے کے لئے شہرت کے لیئے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیئے مناظرہ و مجادلہ کے لیئے حاصل کیا جائے تو شر شر صرف شر ہے جہنم میں داخلے کا بڑا سبب اور جنت میں داخلے سے رکاوٹ ہے
آپ نے کبھی سوچا آپ علمِ دین حاصل کیوں کر رہے ہیں؟
صرف اپنی اصلاح کے لیئے
علمِ عقائد اپنے عقائد درست کرنے کو
علمِ فقہ ذاتی عبادات و معاملات درست کرنے کو
علمِ تصوف اپنی باطنی اصلاح کرنے کو
علمِ قرآن اپنے رب العزت سے کے فرامین سمجھنے کو
جب بندہ یہ سب حاصل کر لیتا ہے تو تنہائی پسند ہو جاتا ہے
امام اعظم امام شافعی جناب غوث پاک اور امام غزالی اس طرح کثیر ائمہ کے بارے یہی آتا ہے کہ علومِ دین حاصل کرنے کے بعد گوشہ نشین ہوگئے تھے کہ اب اس علم پر عمل کریں بس یہی حصولِ علم کا مقصد اور یہی راہِ نجات ہے
بعد میں ان کو خواب میں یا کسی استاذ نے حکم دیا کہ آپ کی حاجت ہے علم پھیلاؤ خاموش مت بیٹھو
جبکہ ہمارے دور میں چار حرف پڑھ کر وہ بھی کچے پکے سے چار حرف، سوشل میڈیا پر اصلاح کا بیڑا اٹھا کر پہنچ جاتے ہیں
جس کا صرف نقصان ہی ہوتا ہے
معذرت کے ساتھ اپنا تجربہ و مشاہدہ بیان کرتا ہوں ممکن ہو غلط ہو
سوشل میڈیا پر زیادہ تر فساد دینی مدارس کے طلباء کی وجہ سے ہوتا ہے
ان کی جذباتی باتوں کچے علم کی موشگافیوں اور محدود علم کی مضرتوں نا بالغ ذہنی کی کرشمہ سازیوں سے بارہا نقصان نظر آیا
ان کی چند کتابوں تک رسائی اور اس پر خود نمائی پھر بے دینوں کے سامنے جب ہنسائی پھر سنی علماء کے بارے لگائی بجھائی سنیوں اور اھلِ ایمان کو باہم دست و گریباں کر دیتی ہے
ان کا دورِ طالبِ علمی جاری اوپر سے وہ علم سے عاری درجہ میں استاذہ کی بھڑکائی چنگاری جب سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں تو نارِ نمرود کی طرح نرا فتنہ ہی پھیلتا ہے
وجہ وہی کہ علم سے مقصود رضائے الٰہی نہیں خود نمائی ہے
اگر رضائے الٰہی مقصد ہوتی تو اپنی اصلاح پر توجہ دیتے جب منجھ کر پختہ عالم بنتے پھر مناظرہ و مجادلہ میں پڑتے
اگر آپ سَچے سُچے طالبِ علمِ دین ہیں تو سوشل میڈیا چھوڑ دیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top