طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 98
°°° دنیا کی سب سے مزے کی عبادت °°°
امام سفیان ثوری و امام شافعی سے مروی ہے
لیس بعد الفرائض افضل من طلب العلم
فرائض کے بعد علم طلب کرنے سے افضل کچھ بھی نہیں ہے
❗تذکرۃ السامع و المتکلم لابن جماعة ❗
فرماتے ہیں
اس طرح کے چند فرامین نقل کر کے امام ابن جماعة فرماتے ہیں
ان سب اقوال سے ظاہر ہوا الله رب العالمین کی رضا کے لیئے علم حاصل کرنا بدن کی نفلی عبادات مثلاً نماز , روزہ, تسبیح, دعاء سے افضل ہے
پھر آگے علم کے افضل ہونے کی وجوہات بیان فرمائی
(1) عبادات صرف اس کی ذات کو فائدہ دیتی ہیں جبکہ علم دوسروں کو نفع پہنچاتا ہے
(2) علم دوسری عبادات کو درست کرتا ہے کیونکہ ہر عبادت علم پر موقوف ہے
(3) علماء انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں جبکہ عابد وارث نہیں ہیں
(4) عالم کی اطاعت کرنا عوام پر واجب ہے عابد کی اطاعت واجب نہیں
(5) علم کا اثر موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے جبکہ عبادت کا اثر ختم ہو جاتا ہے
(6) علم سے شریعت کی بقاء ہے عبادت سے بقائے شریعت نہیں ہے
میں اکثر ایک بات اپنے طلباء کو کہتا ہوں
ایک بندہ ساری رات کھڑا ہو کر عبادت کرے صبح اٹھتے ہی روزہ رکھے اور سورج چڑھتے ہی الله رب العزت کی راہ میں صدقہ کرے پھر تپتی دھوپ میں جہاد فی سبیل اللہ پر نکل جائے اور وہاں خون و پسینہ بہائے اس عظیم انسان سے زیادہ افضل وہ ہے جو ٹھنڈے کمرے میں نرم جگہ بیٹھ کر رضائے الٰہی کے لیئے علم سیکھتا ہے ٹھنڈہ پانی پیتا ہے میٹھی نیند سوتا ہے
کیوں؟
کیونکہ رضائے الٰہی کی نیت سے علم حاصل کرنے سے افضل و اعلیٰ کوئی شے نہیں ہے
یہی وجہ ہے روایت میں آیا ہے
يوزن يوم القيامة مداد العلماء ودم الشهداء فيرجح مداد العلماء على دم الشهداء
قیامت کے دن علماء کے قلموں کی روشنائی اور شہداء کے خون کا وزن کیا جائے گا تو علماء کی روشنائی شہداء کے خون پر بھاری ہو جائے گی
❗فیض القدیر ❗
مگر یہ فضائل ہر طالبِ علمِ دین اور ہر عالمِ دین کے لیئے نہیں ہیں
اولاً یاد رکھیں علماء سوء اس فضیلت کا ذرہ بھی نہیں پا سکیں گے
جو بدعقیدہ ہوں گے وہ تو کوسوں دور ہوں گے ہاں بدعمل عالم کا حساب الله کے حوالے ہے
رہے طالبِ علمِ دین یا وہ علماء جو مزید علم حاصل کرتے رہتے ہیں مطالعہ و ورق گردانی میں وقت گزارتے ہیں
ان کے بارے امام ابن جماعة آگے فرماتے ہیں
جو کچھ فضائل بیان ہوئے یہ ان علماء کے لیئے ہیں جو علم پر عمل کرنے والے متقی ہیں جنہوں نے الله کی رضا کے لیئے علم حاصل کیا
نہ کہ وہ جنہوں نے بری نیت مثلاً دنیاوی غرض, مال و منصب کی طلب یا اپنے اردگرد طلباء اور اپنے متبعین جمع کرنے کی نیت سے علم حاصل کیا وہ تو حدیث پاک کے مطابق جہنم میں جائیں گے
❗ملخصاً من تذکرۃ السامع و المتکلم ❗
علمِ دین کے طالب دنیا میں معزز اور آخرت میں مکرم ہیں
یہ ایسے سلطان ہیں جو صرف تاج نہیں سجاتے ورنہ دنیا و آخرت کے ہر لحاظ سے بادشاہ ہیں
یاد رکھیں نیت درست کرنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام ہے اور سب سے آسان ترین کام ہے
آسان تو یوں کہ آپ کو ظاہری محنت و مشقت نہیں کرنا پڑتی صرف ذہن میں تصور کرنا ہوتا ہے اور مشکل یوں کہ شیطان اپنی پوری قوت تمام زور لگا دیتا ہے کہ مؤمن نیت درست نہ کر سکے
اور شیطان انسان کی ہر کمزوری جانتا ہے اسی وجہ سے 99.99 فیصد نیت میں کھوٹ ملا دیتا ہے
طلباءِ علمِ دین کو نہایت مشکل میں ڈال دیتا ہے
آپ صدقِ دل سے دل میں جھانک کر دیکھیں علمِ دین کیوں حاصل کر رہے ہیں؟
والدین کے کہنے پر ؟
عالم و مفتی کہلانے کے لیئے ؟
مدرس و امام بننے کے لیئے ؟
مدرس و مقتداء بننے کے لیئے ؟
مناظرہ و مجادلہ کرنے کے لیئے ؟
منصب و شہرت پانے کے لیئے ؟
مستقبل اچھا کرنے کے لیئے ؟
یا خود سے جہالت دور کرنے کو
الله رب العزت کی رضاء پانے کو
نیت پر غور کریں
یقین کریں آپ کی نیت کا خالص ہونا آپ کو ہر مشقت و مصیبت ہنس کر سہنے پر راضی رکھے گا
نیت الله کی رضا ہو تو بیماری, قرضداری , دنیا کی غداری آپ کو حصولِ علم سے بالکل نہیں روک سکے گی
آج ایک بار دل کو انصاف کی عدالت میں کھڑا کر کے اس سے حصولِ علم کی نیت کے بارے ضرور سوال کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
