طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 92
°°° فقیہ اور ان کی زوجہ °°°
ایک فقیہ مطالعہَ کتب میں مستغرق رہتے تھے
ایک بار زوجہ محترمہ طویل انتظار کے بعد قہوہ لائی اور ساتھ ایک کاغذ پر چند اشعار لکھے
يا ليتني عندكم يا حبُّ مخطوطة
تسعىٰ إلىٰ نيلها سعيَ ابن بطُّوطة
اے کاش میں آپ کے پاس اے میرے محبوب ایک مخطوطہ (ہاتھ سے لکھے ہوئے اوراق) ہوتی
آپ میری طرف یوں دوڑ کر آتے جیسے ابن بطوطہ سیر و سیاحت کے لیئے سفر کرتا تھا
غبطتُ أوراقَها إذ أنتَ تعشقها
فهل أكونُ كذي اﻷوراق مغبوطة؟
مجھے ان مخطوطات کے اوراق پر رشک آتا ہے کیونکہ آپ ان سے عشق کرتے ہیں
تو کیا میں ان اوراق کی طرح قابلِ رشک ہو سکتی ہوں؟
فقیہ صاحب نے جواباً کاغذ پر لکھا
شتَّانَ بينكما فالرفُّ موضعُها
وأنتِ يا مُهجتي في القلب محطوطة
تم دونوں کے درمیان بہت فرق ہے کیونکہ مخطوطات کا مقام لکڑی کا تختہ ہے
اور تو اے میری روشنی میرے دل میں آباد ہے
وأنتِ مُطْلَقَةٌ ما شئتِ فاعلةً
وتلك بالجلد والخِيطان مربوطة
تو خود مختار ہے جہاں چاہے آئے جائے
اور یہ مخطوطات جلد اور دھاگوں سے بندے ہوئے ہیں
دنیا کے بے شمار نشے ہیں
شراب و کباب و شباب کا نشہ
زر و زمین و ملک نشین ہونے کا نشہ
مگر ان نشںوں میں اعلی ترین اور حلال نشہ کتب بینی کا نشہ ہے
جسے اس کی لت لگ جائے مذکورہ نشے بے کار ہو جاتے ہیں
ایک فقیہ کی زوجہ کہتی تھیں خدا کی قسم آپ کی یہ کتابیں مجھ پر سات سوتنوں سے زیادہ بھاری ہیں
کیونکہ اگر سات سوتنیں ہوتیں تو آٹھویں دن تو باری آتی مگر کتابیں میرا آٹھواں دن بھی لے جاتی ہیں
ایک فقیہ کی خاتون روز بن سنور کر سامنے آتی مگر وہ مستغرقِ مطالعہ ہوتے یوں رات گزر جاتی
اسی طرح اسلاف کھانے پینے کا نشہ بھی نہیں کرتے تھے کہ پیٹ بھر گیا تو رات کو نیند آجائے گی اور مطالعے کے نشے کا ناغہ ہو جائے گا
مگر اس سب بیچ وہ حقوقِ زوجین و حقوق العباد سے بالکل غافل نہیں رہتے تھے
مذکورہ واقعات تفہیم کے لیئے مبالغے کے طور بیان کیئے جاتے ہیں
طالبِ علمِ دین کو ہر نشہ چھوڑنا اور کتب بینی کا نشہ اختیار کرنا چاہیے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
