علم تَو کریم تھا

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 87

°°° کبھی ایسے بھی ہوا ہے °°°

امام اوزاعی نے فرمایا

كان هذا العلم كريما يتلاقاه الرّجال فلمّا دخل في الكتب دخل فيه غير أهله

یہ علم تو کریم تھا* جو صرف لوگوں سے ملاقات کرنے سے حاصل ہوتا تھا
تو *جب یہ علم کتابوں میں داخل ہوا نا اھل لوگ اس میں گھس گئے!
❗ سير أعلام النبلاء ❗
یعنی پہلے زمانے میں سینہ بہ سینہ اور *افواہِ رجال* سے علم حاصل کیا جاتا تھا مگر جب کتابوں کی کثرت ہوئی مصنف کتاب لکھ کر ایک طرف ہوجانے لگا ہر کس و ناکس کتابیں پڑھ کر عالم ہونے کا دعویٰ کرنے لگا

نہ حصولِ علم کی مشقفت اٹھائی نہ کسی شیخ القرآن و شیخ الحدیث کے سامنے عاجزی سے بیٹھا صرف کتابیں پڑھ کر دعویِ علم کرنا حماقت ھے

اعلی حضرت امام اھل سنت فرماتے ہیں دو علم بغیر کسی ماہر کے سامنے بیٹھے حاصل نہیں ہوتے افتاء و طب
حقیقت یہی ہے ان سے متعلقہ علوم بغیر استاذ کے حاصل نہیں ہوتے اگر کوئی کوشش کرے گا گمراہ ہو جائے گا

سیر اعلام النبلاء میں عثمان بن عاصم کا فرمان ہے

إن أحدهم ليفتي في المسألة ولو وردت على عمر لجَمَع لها أهل بدر
آج کل کے لوگ کسی مسئلہ میں فتوی جاری کر دیتے ہیں *اگر ایسا مسئلہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آتا تو *وہ تمام بدری صحابہ اس کے جواب کے لیئے جمع فرما لیتے*
باوجودیکہ عمر فاروق علوم کے عظیم پہاڑ تھے پھر بھی نئے مسئلہ کے حل میں خود جواب نہ دیتے بلکہ قدیم الاسلام صحابہ کا اجلاس طلب فرما لیتے تھے
لہذا ایک عام مسلمان یا طالبِ علمِ دین کے سامنے جب کوئی مسئلہ آئے تو اپنے قیاس یا اپنے یقینی علم سے بھی مسئلہ نہ بتائے بلکہ علماء کی طرف بھیج دے

کبھی صرف کتابوں سے پڑھ کر کوئی انجینئر بنا ہے؟

کبھی کوئی بغیر پریکٹیکل کے سائنسدان کہلایا ہے؟
تو صرف کتابوں سے عالم کیسے بن سکتا ہے؟
تو بغیر استاذ کے عالم کیسے بن سکتا ہے؟
کبھی کوئی صرف کتابوں سے سیاست دان یا صحافی بنا ہے؟
جب تک عملی سیاست و صحافت میں حصہ نہ لے وہ ناکارہ و ناکام ہوتا ہے
ایسے ہی عملی طور پر علماء کی صحبت میں نہ بیٹھنے سے گمراہ و بددین ہوجاتا ہے
کیا کوئی صرف کتابیں پڑھ کر دنیا کا فاتح بن سکتا ہے؟ جبکہ جنگ پر روانہ نہ ہو
تو مشقت و مصیبت اٹھائے بغیر محدث و مفتی کیسے بن سکتا ہے؟
دنیا کے کسی سنجیدہ پلیٹ فورم پر بغیر ڈگری والے سائنس دان کو بولنے کی اجازت ہوتی ہے؟
تو دین میں بغیر ڈگری والے کو علامہ و مفتی و اسلامی اسکالر کہنا کیوں جائز ہے؟
کیا کسی گورنمنٹ کے ادارے میں بغیر ڈگری بغیر سند کے نوکری دی جاتی ہے؟
کسی میٹرک پاس کو میجر؟ مڈل پاس کو گورنر؟ پرائمری پاس کو وزیر اعظم بنایا گیا ہے؟
جب تک مستند و گورمنٹ سے منظور شدہ ادارے سے ڈگری حاصل نہ کی ہو کوئی آفیسر بن سکتا ہے؟
تو مدارس و جامعات کا کبھی دورہ نہ کرنے والے کو اسلامی اسکالر کیسے کہا جا سکتا ہے؟
ایسے ہی دروانِ تعلیم کسی کو سولہویں گریڈ کا آفسیر بنایا جاتا ہے؟
تو طالب علم کیوں مفتی و محدث بننا شروع کر دیتا ہے؟
دونوں طرف خرابی ہے
ایک نے دینی اداروں کا منہ نہیں دیکھا وہ علماء کا مقابلہ کرتا ہے
دوسرا طفلِ مکتب ہے جو علماء سے کشتی کرنا چاہتا ہے
پہلے والا جاہل دوسرا احمق ہے
غامدی,مرزا جہلمی, جعلی طحاوی و عسقلانی اور آج کل کے ماڈرن اسلامک اسکالرز اسی قسم سے ہیں
ان سے بچیں اور دوسروں کو بچائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top